کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ ایک شخص زید نے ایک گاڑی ڈمپر ۲۱ لاکھ میں قسطوں پر خریدی ہے، اس میں زید نے دس لاکھ ایڈوانس دیا ہے ،اور بقیہ ہر مہینہ میں ۲۵ ہزار قسط ادا کرنی ہے، اس طرح زید نے 5 لاکھ پچاس ہزار ادا کر دیا ہے ،اب جو مابقی ہے، اس میں بائع زید کو دو لاکھ پچاس ہزار بخوشی چھوڑنا چاہتا ہے، اور آدھے یعنی دو لاکھ پچاس لینا چاہتا ہے ،یہ جائز ہے یا ناجائز؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں واضح کریں۔
مذکورہ صورت میں بائع کا مذکور مقدار میں رقم معاف کرنا اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، جو شرعاً بھی جائز اور درست ہے، مگر مدت سے قبل کچھ دیکر باقی کے سلسلہ میں باضابطہ کمی یا کچھ معاف کرنے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي الفتاوى الهندية: حط بعض الثمن صحيح ويلتحق بأصل العقد عندنا كالزيادة سواء بقي محلا للمقابلة وقت الحط أو لم يبق محلا كذا في المحيط إذا وهب بعض الثمن عن المشتري قبل القبض أو أبرأه عن بعض الثمن فهو حط فإن كان البائع قد قبض الثمن ثم حط البعض أو وهب بأن قال وهبت منك بعض الثمن أو قال حططت بعض الثمن عنك صح ووجب على البائع رد مثل ذلك على المشتري اھ (3/ 173)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1