میں نے سناہے کہ ایسے کپڑے جس پر اشکال بنی ہوئی ہوں، تیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ اگر یہ درست ہے تو کیا یہ شرط ایسے کپڑے خریدنے اور فروخت کرنے پر بھی عائد ہوگی، جس میں تصویریں بنی ہوئی ہوں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خریدار ایسے کپڑے کے استعمال سے پہلے ان تصاویر کو ختم کر دے۔ آج کل بچوں کے کپڑے خریدنے پڑتے ہیں اور تصاویر ختم کرنی پڑتی ہیں۔ کیا اس کی اجازت ہے؟ ان چیزوں کے بارے میں کیا حکم ہے جو اشیاء ایسے کاغذوں میں لپٹی ہوئی ہوں جن پر تصاویر بنی ہوئی ہیں، کیا ان کے خرید وفروخت کی اجازت ہے؟
اگر ایسی اشیاء کی خریداری سے مقصود تصاویر نہ ہوں، بلکہ محض اس کاغذ یا کپڑے کی خریداری ہو تو اس صورت میں اگرچہ ان کے خریداری کی گنجائش ہے، مگر اس سے بھی احتراز بہتر ہے، جبکہ اس تصویر کو مٹا کر استعمال کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح اھ(1/ 647)۔
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: تحت: (قوله ولبس ثوب فيه تماثيل) (إلی قوله) وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ (1/ 647)-
وفي خلاصة الفتاویٰ: وإن کانت مفقطوع الرأس لا بأس به وکذا لو محی وجه الصورة فھو کقطع الرأس (إلی قوله) وإن کانت صغیرة لا تبدو للناظرین من بعید لا بأس به ثم التمثال إذا کان علی وسادة أو بساط لابأس باستعمالھا وإن کان یکره اتخاذ ھما لکن لا یسجد علی الصورة اھ (۱/ ۵۸)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1