قسطوں پر مختلف ضروریات کی اشیاءخریدنے کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ آج کل اس سلسلے میں مختلف دوکاندار اور بینک جو طریقہ کار استعمال کر رہے ہیں ،وہ اسلامی ہے یا نہیں؟ ان کا طریقہ یہ ہے کہ فرض کریں کوئی شئے دس ہزار روپے کی قیمت کی ہے یہ لوگ اس کو قسطوں کی شرائط کے ساتھ لوگوں کو فروخت کرنے کی پیشکش کرتے ہیں اور اس طرح خریدار کو اس شئے کی قیمت بارہ ہزار روپے ادا کرنی ہوتی ہے اگر وہ اس شئے کو خریدنا چاہےتو۔ اگر خریدار وقت پر ادائیگی کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
۲۔ مزید یہ کہ اگر ایک شئے کی قیمت دس ہزار روپے ہے اور خریدار کو وہ دس ہزار روپے میں ہی فروخت کی جا رہی ہے تو پھر کیا یہ اسلامی شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟
نقد کے مقابلہ میں قسطوں پر بیچنے کی صورت میں زیادہ قیمت وصول کرنا جائز ہے ،اور سود کے زمرے میں بھی نہیں آتا، مگر اس سلسلہ میں درجِ ذیل چار شرائط ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(۱): پہلی مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ قسطوں پر ہوگا۔
( ۲):کل قسطیں مثلاً دس ہونگی۔
(۳) : ہر قسط میں اتنی رقم ہوگی۔
(۴): اگر کوئی قسط کسی وجہ سے لیٹ ہو جائے تو اس پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہ کیا جائے، چنانچہ مندرجہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں کا جو بھی معاملہ ہوگا وہ شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔ لیکن سوال میں مذکور صورت کے اندر آخری شرط چونکہ مفقود ہے، اس لئے مذکو رطریقہ سے معاملہ کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ سوال میں مذکور معاملہ بلاشبہ جائز اور اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)۔
وفي الهداية شرح البداية: ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى { وأحل الله البيع } (3/ 22)۔
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرةـ: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: فوق قيمته) أي شراء بثمن مؤجل فوق ما يباع بثمن حال لأن قيمة المؤجل فوق قيمة الحال اھ (4/ 440)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13) ۔
وفی الهداية شرح البداية: نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح والتولية نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول من غير زيادة ربح والبيعان جائزان لاستجماع شرائط الجواز والحاجة ماسة إلى هذا النوع من البيع اھ (3/ 56) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1