کیا فرماتے ہیں حضرات اہلِ علم و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ:
آج کل کاروبار کے حوالے سے پراپرٹی والے احباب کسی بھی جگہ کسی بلڈنگ کا نقشہ تیار کر کے اس کی فروخت کے لیے لوگوں سے نقد یا قسطوں میں رقم لینا شروع کرتے ہیں، حالانکہ ابھی اس بلڈنگ کی بنیاد بھی نہیں ڈالی، البتہ بنانا یقینی ہے،کیا کوئی آدمی مذکورہ طریقے سے بننے والی بلڈنگ میں اپنی جگہ متعین کروانے کے بعد آگے کسی اور پر فروخت کرنا چاہے تو یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ براہِ مہربانی کسی معروف و مستند حوالے کے ساتھ جواب دیکر ممنون فرمائیں۔ والسلام!
کسی بلڈنگ کی مکمل تعمیر سے قبل اس میں تعمیر کیے جانے والے دفاتر یا مکانات وغیرہ کا پیشگی خرید نا اور بک کروانا اگر چہ بیع استصناع کےطور پر جائز اور درست ہومگر بیع استصناع میں جب تک شئی تیار کر کے مشتری کے حوالہ نہ کی جائے تو اس وقت تک مشتری کی ملک نہ ہونے اور شئی کے معدوم ہونے کی بناء پر اس کا آگے کسی دوسرے پر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الهداية: وإن استصنع شيئا من ذلك بغير أجل جاز استحسانا للإجماع الثابت بالتعامل فيه والقياس لا يجوز لانه بيع المعدوم والصحيح أنه يجوز بیعا اھ (۳/ ۱۰۰)
وفي الدر: والمعدوم كبيع حق التعلى أی علو سقط لأنه معدوم اھ (۳/۵۲) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1