کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے فرنیچر بنانے کا آڈر دیا اور قیمت مابین طے ہوگئی اور آدھی قیمت ادا کردی ۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے لکڑی کی قیمت بڑھ گئی، اب فرنیچر بنانے والا زیادہ رقم کا مطالبہ کرتا ہے ۔ کیا یہ اضافی رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہے یانہیں؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
مسئولہ صورت میں ابتداءِ عقد میں ہی اگر یہ طے کرلیا گیا ہوکہ خام مال کی قیمت میں اضافے کی صورت میں مخصوص اور متعین مقدار میں اسی نسبت سے اصل قیمت میں بھی اضافہ ہوگا،تو ایسی صورت میں قیمت بڑھنے کی وجہ سے معاصر اہلِ علم نے اس اضافےکی شرعاً گنجائش دی ہے،بصورتِ دیگر فرنیچر والےکےلئےآرڈر دینے والےشخص سےاضافی رقم کا مطالبہ شرعاً درست نہیں،تاہم سائل اگر خودسےاُسے اضافی طور پرکچھ دینا چاہے تو اس کا اُسے اختیار حاصل ہے۔
کما فی فقہ البیوع للعثمانی (1/607)
إن طرأت ظروف تستدعی تعدیل ثمن الإستصناع زیادۃً أو نقصاً، فإنّہ یجوز بإتفاق الطرفین. وینبغی أن یجوز إتفاق الطرفین علیٰ معیار للتعدیل فی بدایۃ العقد، مثل أن یتفقا علیٰ أنّہ إن زاد سعر الاسمنت أو الحدید فی استصناع بناء بنسبۃ معلومۃ، فإنّ الثمن یزید أو ینقص بتلک النسبۃ. وھذا مما لا محیص عنہ فی الظروف التی تتذبذب فیھا الأسعار خلال مدۃ قصیرۃ. واللہ سبحانہ اعلم!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1