میری بیوی عیسائی تھی، لیکن نکاح کے وقت وہ دل سے مسلمان ہوئی تھی اور پھر ہمارا نکاح ہوا تھا، یہ ہماری پسند کی شادی تھی، اب وہ دوبارہ چھ (6)مہینے بعد اپنا مذہب بدل کر دوبارہ عیسائی بن گئی ہے اور مجھے کہتی ہے کہ تمہارا نکاح مسلمان عورت سے ہوا تھا اور میں ایک عیسائی عورت ہوں اور ہمارا نکاح ختم ہے , اور اب میں تمہاری بیوی نہیں،یہ سب وہ اپنی مرضی سے کہہ رہی ہے، کیا وہ سچ کہہ رہی ہے؟ ذرا میری مدد کریں اس معاملے پر کہ اللہ اور اسکے رسول کا کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ خیراً
سائل کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی نے برضا و رغبت مذہب ِاسلام قبول کر کےسائل کیساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیا تھا اور اب اس نے مذہبِ اسلام چھوڑ کر دوبارہ عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہو تو اسکا یہ عمل انتہائی قبیح و شنیع اور شرعاً ناجائز اور حرام ہے، سائل اور اسکے اہلِ خانہ کو چاہیئے کہ ازخود یا کسی مستند اور پختہ عالمِ دین کے ذریعے اسے سمجھا کر اور اسکے شکوک و شبہات ختم کرکے اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرے ، چنانچہ سمجھانے کے بعد اگر وہ اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ حسبِ سابق سائل کے نکاح میں ہو گی، تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں،تاہم احتیاطاً تجدیدِ نکاح کر لیا جائے تو بہتر ہو گا،لیکن اگر سمجھانے کے باوجود وہ اپنے موقف سے باز نہ آئے تو سائل کو اسکے متعلق قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہو گا۔
كما في الدر المختار : لو ارتدت (الی قولہ) و تجبر على الإسلام و على تجديد النكاح زجرا لها بمهر يسير كدينار و عليه الفتوى و لوالجية . و أفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا و تيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر ، قال في النهر : و الإفتاء بهذا أولى من الإفتاء بما في النوادر لكن قال المصنف : و من تصفح أحوال نساء زماننا و ما يقع منهن من موجبات الردة مكررا في كل يوم لم يتوقف في الإفتاء برواية النوادر . (3/194)۔
و فی ردالمحتار : (قوله و تجبر أي بالحبس إلى أن تسلم أو تموت (قوله و على تجديد النكاح) فلكل قاض أن يجدده بمهر يسير و لو بدينار رضيت أم لا و تمنع من التزوج بغيره بعد إسلامها . و لا يخفى أن محله ما إذا طلب الزوج ذلك ، أما لو سكت أو تركه صريحا فإنها لا تجبر و تزوج من غيره لأنه ترك حقه بحر و نهر (قوله زجرا لها) عبارة البحر حسما لباب المعصية (الہ قولہ) (قوله قال في النهر إلخ) عبارته : و لا يخفى أن الإفتاء بما اختاره بعض أئمة بلخ أولى من الإفتاء بما في النوادر ، و لقد شاهدنا من المشاق في تجديدها فضلا عن جبره بالضرب و نحوه ما لا يعد و لا يحد . و قد كان بعض مشايخنا من علماء العجم ابتلي بامرأة تقع فيما يوجب الكفر كثيرا ثم تنكر و عن التجديد تأبى ، و من القواعد : المشقة تجلب التيسير و الله الميسر لكل عسير . اهـ (3/194) ۔
و فی النهاية : و أما بعض مشايخ بلخ و بعض مشايخ سمرقند كانوا يفتون بعدم الفرقة بارتداد المرأة حسما لباب المعصية و عامتهم على أنه تقع الفرقة إلا أنها تجبر على الإسلام و النكاح مع زوجها الأول لأن الحسم يحصل بالجبر على النكاح مع الأول و مشايخ بخارى كانوا على هذا و وجهه أن الردة منافية للنكاح لما ذكرنا أن الفرقة بالردة لفوات صفة الحل و ذلك مناف للنكاح ۔ اھ (7/148)۔