السلام علیکم ! امید کرتا ہوں آپ حضرات بخیر و عافیت ہوں گے ، میں ایک چینی ترجمان ہوں جوکہ ایک چینی غیر مسلم کے ساتھ تنخواہ پر کام کرتا ہوں، وہ چینی پاکستان سے مختلف چیزیں برآمدات کرتا ہے، کچھ وقت پہلے اس نے بیل کا پینس ( عضو تناسل) کی برآمدات شروع کی ہے، یہ کام مختلف عرصے سے پاکستانی بھائی بھی برآمدات کررہے ہیں، ہم اس کاروبار میں نئے آئے ہیں۔ چینی باس کا کہنا ہے کہ یہ ادویات میں استعمال ہوتا ہے ، معلوم یہ کرنا تھا کہ اس کی خرید و فروخت اور اس کا نفع لینا میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز نہیں تو اس کے لین دین کی ترجمانی،برآمدات کی کاغذی کاروائی بغیر کسی نفع کے کرنا جائز ہے یا نہیں؟ چونکہ اس چینی غیر مسلم کے مختلف کاروبار ہیں جس کو میں اجتماعی طور پر انتظامی اعتبار سے دیکھ رہا ہوتا ہوں جس میں بسا اوقات بیل کا پینس ( عضو تناسل) سے متعلق ترجمانی ،لین دین اور کاغذی کاروائی کی بات بھی آجاتی ہے تو اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
فقہاءاحنافؒ کے اصول کے مطابق ہر وہ چیز جس کا کوئی جائز اور مباح استعمال موجود ہو، اس کی بیع جائز ہے، اگرچہ اس کا کھانا جائز نہ ہو، اور جن اشیاء کا کوئی جائز استعمال نہ ہو، ان کی بیع جائز نہیں۔اسی اصول کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ بیل کے عضوِ تناسل کا استعمال اگرچہ فی نفسہٖ ممنوع ہے، تاہم اگر یہ بات معتبر ذرائع سے ثابت ہو کہ اس کا استعمال کسی جائز اور مباح مقصد (مثلاً ایسی ادویات میں جن کا استعمال شرعاً حرام نہ ہو) کےلیے ہوتا ہے، اور وہ استعمال اہلِ طب کے نزدیک متعارف و مقصود ہو، توچونکہ اس کاایک جائزمصرف موجودہے، اس لیےاحنافؒ کے نزدیک ایسی چیز کی خریدو فروخت اور اس سے نفع حاصل کرناجائزہوگا۔چنانچہ اگر سائل کے علم اور تحقیق کے مطابق اس شے کا واقعی جائز اور مباح استعمال موجود ہے، تو اس کی خریدو فروخت ،لین دین، ترجمانی اور برآمدات کی کاغذی کارروائی کرنا بھی جائز ہے، ورنہ نہیں۔
کما فی الوجیز فی ایضاح القواعد الفقھیۃ الکلیۃ:كل شيء كره أكله والانتفاع به على وجه من الوجوه فشراؤه وبيعه مكروه، وكل شيء لا بأس بالانتفاع به فلا بأس ببيعه إلخ۔ (المقدمة السابعة: نشأن القواعد الفقھية وتدوينھا وتطورها ج 1، ص 52، ط: مؤسسۃ الرسالۃ العالمیۃ)۔
وفی الدر المختار:قال في النھایۃ وفي التھذیب:یجوز للعلیل شرب البول والدم والمیتۃ للتداوي إذ أخبرہ طبیب مسلم أن فیہ شفاءہ ولم یجد من المباح ما یقوم مقامہ إلخ۔ (کتاب البیوع،مطلب في التداوي بالمحرم، ج 7، ص 508، ط:رشیدیۃ)۔
وفیہ أیضا: (كره تحريما) وقيل تنزيھا والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد فی کراھۃ ذالک إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت(قولہ:کرہ تحریما) ولما روي الأوزاعي عن واصل بن أبي جمیلۃ عن مجاھد قال: کرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الشاۃ الذکر والأنثیین والقبل والغدۃ والمدارۃ والمثانۃ والدم، قال أبو حنیفۃ: الدم حرام وأکرہ الستۃ، وذالک لقولہ عزوجل۔حرمت علیکم المیتۃ والدم۔ الآیۃ فلما تناولہ النص قطع بتحریمہ وکرہ ما سواہ، لأنہ مما تستخبثہ الأنفس، وتکرھہ وھذا المعنی سبب الکراھیۃ لقولہ تعالی۔ ویحرم علیھم الخبائث۔ زیلعی۔ وقال فی البدائع آخر کتاب الذبائح: وما روی عن مجاھد فالمراد منہ کراھۃ التحریم بدلیل أنہ جمع بین الستۃ وبین الدم فی الکراھۃ والدم المسفوح محرم والمروی عن أبی حنیفۃ أنہ قال: الدم حرام وأکرہ الستۃ فأطلق الحرام علی الدم، و سمی ما سواہ مکروھا لأن حرام المطلق ما ثبتت حرمتہ بدلیل مقطوع بہ و ھو المفسر من الکتاب قال اللہ تعالی۔ أو دما مسفوحا۔ وانعقد الإجماع علی حرمتہ، وأما حرمۃ ما سواہ من الستۃ فما ثبت بدلیل مقطوع بہ، بل الاجتھاد أو بظاھر الکتاب المحتمل للتأویل أو الحدیث، فلذا فصل فسمی الدم حراما وذا مکروھا اھ: ظاھر إطلاق المتون ھو الکراھۃ (قولہ وقیل تنزیھا) قائلہ صاحب القنیۃ فإنہ ذکر أن الذکر أو الغدۃ لو طبخ فی المرقۃ وکراھۃ ھذہ الأشیاء تنزیہ لا تحریم اھ: واختار فی الوھبانیۃ ما فی القنیۃ وقال: إن فیہ فائدتین إحدھما أن الکراھۃ تنزیھیۃ، والأخری أنہ لا یکرہ أکل المرقۃ واللحم اھ نقلہ عنہ ابن الشحنۃ فی شرحہ، و أقرہ (قولہ ولأول أوجہ) لما قدمناہ من الاستدلال الإمام بالآیۃ وأیضا فکلام صاحب القنیۃ لا یعارض ظاھر المتون و کلام البدائع (قولہ من الشاۃ) ذکر الشاۃ إتفاقی لأن الحکم لا یختلف فی غیرھا من المأکولات ط (قولہ الحیاء) ھو الفرج من ذوات الخف والظلف والسباع إلخ۔ (مسائل شتی، ج 6، ص 749، ط:سعید)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:وكل منتفع به شرعا، في الحال أو في المآل، وله قيمة جاز بيعه، وإلا فلا۔ وقال الحصكفي: جواز البيع يدور مع حل الانتفاع إلخ۔ (ج 9، ص 155، ط: دارالسلاسل – الكویت)
وفی الھندیۃ:ويجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بھا في الأودية وإن كان لا ينتفع بھا لا يجوز والصحيح أنه يجوز بيع كل شيء ينتفع به كذا في التتارخانيۃ إلخ۔ (كتاب البيوع، الباب التاسع فيما يجوز بيعه ومالا يجوز،ج 3، ص 114، ط: رشيدية)۔
وفی مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر:لأن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع وحرمة الانتفاع بھا، وقال بعضھم: إن بيع الحية يجوز إذا انتفع بھا للأدوية إلخ۔ (كتاب البيوع، مسائل شتي في البيع،ج 2، ص108، ط: دار إحياء التراث العربي)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1