آج کل ہمارے علاقے میں لوگ ایڈوانس میں پیسے دے کر سریہ یا سیمنٹ یا سونا یا اس طرح کی کوئی چیز کی بکنگ کر لیتے ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ مثال کے طور پر میں دوکاندار کے پاس جاتا ہو، اور اس کو 2 لاکھ روپے دیتا ہو ،اور کہتا ہو کہ یہ پیسے رکھ لے ،اور میری سیمنٹ کی بکنگ کرلے ،اس شرط کے ساتھ کہ اگر سیمنٹ کی قیمت کم ہوئی، تو آپ مجھے وہ کم قیمت لگائے گے، جس دن میں آپ سے سیمنٹ لوں گا ،اور اگر قیمت زیادہ ہوئی، مطلب سیمنٹ مہنگا ہو گیا، تو آپ مجھے جو آج کا ریٹ ہے ،یہی والا لگائے گے مطلب مہنگی نہیں دو گے، اب بیشک میں اس سے سال بعد یا دو سال بعد لو تو ریٹ مجھے وہ وہی لگائے گا، جس دن میں نے بکنگ کی تھی، تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ سوال کو اور آسان کرتا ہوں میں دو سال بعد سیمنٹ لینے گیا، اور سیمنٹ سستا تھا ،اس تاریخ کے مقابلے میں جس تاریخ کو ہمارہ معاہدہ ہوا تھا تو وہ مجھے بتا ہی دے گا، اور اگر مہنگا ہوا تھا تو وہ مجھے وہ قیمت لگائے گا ،جس دن ہم نے معاہدہ کیا تھا کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق بکنگ کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ معاملہ کرتے وقت قیمت کی کمی کی شرط نہ لگائی جائے، بلکہ ایک دفعہ قیمت متعین کر لینے کے بعد آئندہ مذکور چیز کی قیمت، خواہ بڑھ جائے یا گھٹ جائے ، بائع ( دکاندار) اسی طے شدہ قیمت کے مطابق مذکور چیز دینے کا پابند ہو گا، خریدار بائع کو قیمت کم کرنے پر شرعا مجبور نہیں کر سکتا، تاہم اگر وہ اپنی دلی رضامندی سے اپنی طرف سے قیمت میں کمی کرتے ہوئے کچھ رقم خریدار کو لوٹا دے، تو شرعا ایسا کرنا درست ہے ، لیکن اس پر قیمت کم کر ناشر عالازم نہیں۔
كما في الدر المختار: باب السلم هو لغة كالسلف وزنا ومعنى، وشرعا بيع أجل وهو المسلم فيه بعاجل وهو رأس المال ---- ويفتي من الشروط كون رأس المال منقوداً وعدم الخيار وان لا يشمل البدلين احدى علتى الربا وهو القدر المتفق أو الجنس لأن حرمة النساء تتحقق به وعدها العينى تبعا للغاية سبعة عشر .
وفي الشامية: قوله سبعة عشر : ستة فى رأس المال وهى بيان جنسه ونوعه وصفته وقدره ونقده وقبضه قبل الافتراق اھ (۵/218) واللہ أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1