کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر سے خالد کے حکم پر (1000) ہزار ڈالر 3،20000 تین لاکھ بیس ہزار روپے کے عوض ایک مہینے کے ادھار پر خرید لیا۔ حالانکہ اس عقد کے دن ہزار ڈالر کی قیمت تین لاکھ 300000 روپے بنتے تھے تو پھر زید نے یہ ایک ہزار ڈالر صرف تین لاکھ کے عوض بھیج دیا اور پھر خالد کے حکم پر خالد کے دائن کو یہ تین لاکھ روپے دے دیے ۔ جب مہینہ پورا ہوا تو بائع بکر نے زید مشتری سے اپنے ایک ہزار ڈالر کا ثمن تین لاکھ بیس ہزار روپے کا مطالبہ کیا تو زید مشتری نے اپنے امر خالد سے کہا کہ بکر مجھ سے اپنے تین لاکھ بیس ہزار روپے مانگ رہے ہیں کیونکہ میں نے آپ کے حکم پر بکر سے ڈالر اس روز کی قیمت سے زیادہ قیمت پر خریدا تھا اور پھر آپ ہی کے حکم پر ڈالر اسی روز کی قیمت پر بھیج دیا تھا اور آپ کے حکم کے مطابق آپ کے دائن کو یہی تین لاکھ روپے دئے تھے۔ لیکن اب خالد کہتا ہے کہ آپ (زید) نے سود کیا ہے میں زید کو صرف تین لاکھ روپے دونگا جو زید نے میرے دائن کو دیے تجھے باقی بیس ہزار روپے میں نہیں دونگا آپ سے بکر جو اضافی رقم مانگ رہا ہے اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیس ہزار روپے بکر کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟ اور بالفرض اگر بکر کا حق بنتا ہے تو زید خالد سے اس بیس ہزار روپے کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر بکر کا حق بنتایا نہیں بنتا ؟ اگر زید نے بکر کو پورا رقم یعنی تین لاکھ بیس ہزار وپے دیے تھے تو کیا زید اپنے امر خالد سے اس رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک بندہ دوسرے بندے کے حکم پر کوئی سودی معاملہ کریں تو کیا پہلا بندہ (جوکہ دوسرے بندے کا وکیل ) ہو تو یہ وکیل اس سودی معاملے میں نقصان کا ذمہ دار ہو گایا نہیں ؟ اگر ذمہ دار ہو بھی جائے تو کیا اپنے موکل سے اس خسارے کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ مختلف ملکوں کی کرنسیاں فقہائے کرام کے ہاں چونکہ الگ الگ جنس شمار کی جاتی ہیں،لہذا آپس میں ان کی بیع کمی بیشی کے ساتھ کرنا یا ادھار معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے،بشرطیکہ دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک کرنسی پر مجلس عقد میں قبضہ کر لیا جائے ،ورنہ "بیع الکالی بالکالی"(ادھار کی ادھار سے بیع)لازم آئے گی ، جو کہ شرعاً ناجائز ہے،البتہ اگر قانوناً مقرر کردہ نرخ سے کمی بیشی کے ساتھ معاملہ کرنا ممنوع ہو تو اس کے خلاف کرنا درست نہ ہو گا۔
چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر زید نے مذکور ہزار(1000)ڈالر پر مجلس عقد ہی میں قبضہ کر لیا ہو تو بکر کا زید پر ہزار ڈالر کو پاکستانی تین لاکھ بیس ہزار(320000)کے عوض فروخت کرنا شرعاً جائز ہے،لہذا بکر کا زید سے بقیہ بیس ہزار کا مطالبہ کرنا بھی شرعاً جائز و درست ہے ,جبکہ خالد نے اگر زید کو (سوال میں مذکور عقد و معاملہ)کا وکیل نامزد کیا ہو ،تو بکر کے بقیہ بیس ہزار روپے کی ادائیگی کا ضامن خالد ہے ،نہ کہ زید۔
کما فی الہدایۃ : الربا محرم فی کل مکیل او موزون اذا بیع بجنسہ متفاضلاً ، فالعلۃ عندنا الکیل مع الجنس و الوزن مع الجنس۔(3/81)۔
و فیہا ایضاً : و اذا عدم الوصفان : الجنس و المعنی المضموم الیہ ، حل التفاضل و النساء لعدم العلۃ المحرمۃ ، و الاصل فیہ الاباحۃ۔(3/81)-
و فی تکملۃ فتح الملہم : و اما العملۃ الاجنبیۃ من الاوراق فھی جنس آخر ، فیجوز مبادلتھا بالتفاضل ، فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودی۔(1/590)۔
و فی المحيط البرهاني : لأن قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل ، ألا ترى أنه لو هلك في يد الوكيل كان بمنزلة ما لو هلك في يد الموكل فكأنها كسدت في يد الموكل۔(204/7)۔
و فی البحر الرائق : و إلى أن الرد عليه لو كان وكيلا بالبيع فوجد المشتري بالمبيع عيبا ما دام الوكيل حيا عاقلا من أهل لزوم العهدة فإن كان محجورا يرد على الموكل و في شرح الطحاوي وجد المشتري فيما اشتراه عيبا رجع بالثمن على الوكيل إن كان نقده الثمن و إن كان نقده من الموكل أخذه من الموكل و لم يذكر ما إذا أنقد الثمن إلى الوكيل ثم أعطاه هو إلى الموكل ثم وجد المشتري عيبا يرده على الوكيل أم الموكل . أفتى القاضي أنه يرده على الوكيل كذا في البزازية۔(155/7)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : إذا أمر الرجل غيره أن يذبح له الشاة و كانت الشاة لجاره ضمن الذابح علم أن الشاة لغير الآمر أو لم يعلم و هل يرجع بالضمان على الآمر إن علم أن الشاة لغير الآمر حتى علم أن الأمر به لم يصح لا يكون له حق الرجوع و إن لم يعلم حتى ظن صحة الآمر رجع كذا في الذخيرة۔(5/142)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1