محترم علماءِ کرام! السلام علیکم!
براہِ کرم وضاحت فرمائیں، دورانِ طواف رکنِ یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان" ربنا آتنا"والی دعا کے بعد ایک اور دعا اکثر کتابوں میں موجود ہے " وادخلنا الجنۃ مع الابرار بر حمتک یا عزیزیا غفار یا رب العالمین" کیا اتنا اضافہ کسی حدیث سے ثابت ہے یا کسی بھی موقع پر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے اس دعا کا مانگنا ثابت ہے؟ حوالے کے ساتھ تحریر فرمائیں ۔
تلاشِ بسیار کے باوجود دعا کے مذکور الفاظ " وادخلنا الجنة مع الأبرار برحمتك یا عزيز یا غفار يا رب العالمین" احادیثِ مبارکہ کی مستند کتب میں نہیں مل سکے، لیکن یہ کلمات چونکہ معنیٰ کے اعتبار سے درست ہیں، اس لئے مذکور دعا کے آخر میں یہ کلمات بڑھانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تاہم بہتریہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعائیہ کلمات پر اکتفا کیا جائے۔
کما فی سنن أبی داؤد : عن عبد الله بن السائب، قال: سمعتُ رسولَ الله - صلَّى الله عليه وسلم - يقول ما بين الرُّكْنينِ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] اھ (3/273)۔