کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس حدیث کے بارے میں کہ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: (أنت و مالك لأبیك) آیا اس حدیث کا جو حکم ہے وہ مطلق ہے یا کسی مخصوص موقع کے ساتھ مقید ہے، اگر ایک باپ یا دادا بیٹے کی زمین پر قبضہ کر کے اس سے منافع لیتا ہے اور بیٹے نے اجازت بھی نہیں دی ہے، جبکہ بڑے بیٹے پر باپ یا دادا کی ولدیت بھی نہیں ہے اور باپ یا دادا کے پاس اپنی زمین بھی ہے جس سے وہ اپنا خرچہ بھی پورا کرتا ہے۔ اب باپ یا دادا کو حدیثِ مذکور کے مطابق بیٹے کے اشیاءِ غیر منقولہ میں تصرّف کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ حدیثِ مذکور کی ایسی تشریح فرمائیں کہ جس سے باپ کے تصرّف کی حیثیت واضح ہوجائے۔
نوٹ: یہ زمین باپ نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دی اور ہر ایک کو قبضہ بھی دیا، لیکن پھر ایک بیٹے کے حصے پر قبضہ کر کے خود استعمال کرتا ہے، جبکہ دیگر بھائیوں کے پاس اپنا اپنا حصہ بدستور موجود ہے۔
اس حدیث مبارک میں خاص کر والد کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غریب و محتاج ہو اور زندگی کی کشمکش میں ہو اور اس کا بیٹا صاحبِ وسعت ہو تو اسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنے بیٹے کے مال سے وہ اپنی ضرورت کے بقدر بلااجازت بھی لے سکتا ہے، کیونکہ اس حالت میں بیٹے کا مال اس کے لیے مباح ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باپ صاحبِ وسعت ہو اور کھانے پینے جیسی ضروریات میں کسی کا محتاج نہ ہو تو بیٹے کے مال کو اپنے لیے مباح سمجھ کر اٹھالے یا اسے فضول خرچیوں میں اڑانا شروع کر دے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب والد نے اپنی جائیداد تقسیم کر کے بیٹوں کو دیدی ہے تو وہ مذکور ایک بیٹے کو بھی بلاوجہ پریشان نہ کرے، بلکہ دوسروں کی طرح اس کو بھی اپنے حصہ پر مالکانہ قبضہ کے ساتھ رہنے دے-تاہم مذکور بیٹے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والد کے حق میں تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اسے اپنے لیے باعثِ برکت و سعادت مندی سمجھے اور والد پر خرچ سے ہاتھ نہ روکے اور اگر والد نے اپنے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو تو تمام بیٹوں پر اس کی کفالت واجب ہے۔
ففی أعلاء السنن: عن قیس بن أبی حازم جاء رجل إلی أبی بکر الصدیقؓ فقال: إن أبی یرید أن یأخذ مالی کله لحاجة، فقال لأبیه: إنما لك من ماله مایکفیك، فقال: یا خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم ألیس قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: أنت ومالك لأبیك؟ فقال نعم وإنما یعنی بذلك النفقة ارض بما رضی اللہ عزوجل رواہ الطبرانی فی الاوسط والبیهقی قلت: قولهﷺ ’’أنت ومالك لأبیك‘‘ معنه ما فی الحدیث عائشةؓ أی إذا احتاج الأب إلی ماله فله أن یأخذ منه بقدر الحاجة من غیر اسراف وھٰذا ھو مذھب الحنفیة فی الباب، وقد فسره بذلك ابوبکر رضی اللہ عنه وکفیٰ به مفسراً (۱۱/۳۰۱۹)-
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: لا تجب النفقة على الغير إلا بسب الحاجة، فمن كان ذا مال فنفقته في ماله، سواء أكان صغيراً أم كبيراً، إلا الزوجة فإن نفقتها تجب على الزوج ولو كانت موسرة؛ لأن نفقتها لم تجب للحاجة، وإنما بسبب احتباسها لحق الزوج. (10/ 7359)-
و فی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،(5/ 690)-واللہ أعلم بالصواب