محترم جناب مفتی صاحب !
(۱): اگر کوئی شیعہ صحابہ یا صحابیات کو برا بھلا کہے ،تو ایک غیرت مند مسلمان اس کو مار دے، تو کیا وہ شہید کہلائے گا ؟ (مارنے سے قبل اس کو سمجھایا تھا، لیکن وہ نہیں مانا) -
(۲):اسی طرح اگر کوئی قادیانی اللہ کے نبی کو برا بھلا کہے، یا شان میں گستاخی کرے ،تو اس کو بھی کوئی مسلمان ماردے (پہلے سمجھایا لیکن نہ مانا ) تو کیا وہ شہید کہلائے گا ؟
(۳): اگر شیعہ اور قادیانی کو بغیر سمجھائے مار دیا تو کیا شہید کہلائے گا ؟ دونوں کو مارا ہے صرف اللہ کی رضا کے لئے, کیا شیعہ کافر ہے کہ نہیں ؟ ( اس کو ذرا تفصیل سے بتائیے گا )-
(۵): کیا مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ کو شہید کہلائیں گے ؟ انہوں نے تو صحابہ کی خاطر جان دی ہے ؟ ان سوالات کا جواب جلدی دیدیا جائے شکریہ !
(۱، ۲، ۳، ): اگر مسلمان غیرتِ ایمانی کی بناء پر اس حالت میں اسے قتل کر دے ،تو ایسے افراد اگر چہ شہید نہیں کہلائیں گے، مگر یہ کام حکومت کاہے ،عام عوام کو اس طرح کسی کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا کسی شخص کو اپنے طور پر ایسا اقدام کرنے سے احتراز چاہئیے۔
(۴) :شیعوں کے بہت سے فرقے ہیں، ان میں سے جو شیعہ حضرت علی کو الٰہ مانتا ہو، یا حضرت جبرئیل کے وحی لانے میں غلطی کا قائل ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا جانتا ہو ،یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو، یا اس قسم کا کوئی اور صریح کفریہ اور مخالفِ قرآن عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلاشبہ کافر ہے، ورنہ نہیں۔
(۵) اس میں تو کوئی شبہ کی بات نہیں، سائل کو یہ پوچھنے کی نوبت کیسے آئی؟ اگر اس کی وضاحت لکھ دی جائے تو ان شاء اللہ اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے ۔
ففی حاشية ابن عابدين: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته اھ (4/ 237)