السلام علیکم محترم مفتی صاحب!
آج کل زمین کا ایک سرکاری ثبوت ہوتا ہے، جس کو انتقال کہتے ہیں، اب زمین کی بیع و شراء کے وقت مبیعہ زمین کا قبضہ اور انتقال دونوں دینا پڑتے ہیں، البتہ آج کل ایک اور صورت چل پڑی ہے کہ زمین ایک کو بیچ دی یعنی اسٹامپ پیپر پر اور قبضہ بھی دیدیتے ہیں ،اور صرف انتقال کسی اور کو عوضاً بیچ دیا یعنی اس کے الگ سے پیسے لے لیے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف انتقال کی بیع و شراء جائز ہے کہ ناجائز ؟ جو کہ صرف اب کاغذی ثبوت ہے، جواب مرحمت فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں ۔
واضح ہو کہ زمین کے کاغذات کی حیثیت قانونی طور پر فقط ایک ثبوت کی ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں، جسے متعلقہ زمین سے الگ کر کے علیحدہ طور پر فروخت کیا جائے۔ لہذا ز مین فروخت کرنے کے بعد کا غذات خریدار کے نام کرانے کے بجائے کسی اور شخص کو فروخت کر کے اس کا عوض لینا درست نہیں، بلکہ یہ دھوکہ دہی کی ایک صورت ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
وفي صحيح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال ما هذا يا صاحب الطعام ؟ قال أصابته السماء يا رسول الله قال أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس ؟ من غش فليس مني اھ (1/ 99)۔
وفي الاختيار لتعليل المختار؛ ثم الكذب محظور إلا في القتال للخدعة، وفي الصلح بين اثنين، وفي إرضاء الرجل الأهل، وفي دفع الظالم عن الظلم ويكره التعريض بالكذب إلا لحاجة اھ (4/ 180)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1