یہاں دبئی اسلامی بینک کی طرف سے متعارف کردہ کار لون (ادھار کی بنیاد پر کار خریدنا) یا فینینس ٹرک کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ جو شخص کار یا ٹرک خرید نا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے شوروم میں جا کر تمام امور کا فیصلہ کرے گا , متعلقہ کاغذات بینک میں لائےگا, بینک والے شوروم میں جاکر رقم ادا کریں گے اور تمام رقم کے حساب کتاب کے بعد صارف سے قسط وار وصول کیا جائےگی، بینک کے اشتہار کے مطابق کار ریٹ 2.5 فیصد یاکچھ اس طرح لیا جائے گا، براہ کرم آپ تحقیق کر کے ہمیں بتائیں کہ یہ منافع ہے یا سود ؟ کیا ہم اس طرح دبئی اسلامی بینک کے ذریعے کار خرید سکتے ہیں ؟بینک مشورہ کمیٹی میں مفتی صاحب بھی ہیں۔
واضح ہو کہ سوال میں درج صورت شرعاً درست نہیں البتہ بینک یا کوئی دوسرا شخص گاڑی یا کسی بھی شئی کو خریدنے کے بعد اپنے قبضہ میں لے لے ، اور پھر اس کے بعد وہ شئی ادھار اور قسطوں کا معاملہ کر کے اپنے گاہک پر نقد کے مقابلہ میں زیادہ قمیت کے عوض بیچ دے اور یہ نقد یا ادھار کا معاملہ پہلی مجلسِ عقد میں ہی طے کر لیا جائے، اور یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہوں گی، اور ہر قسط کی مالیت ومقدار کتنی ہوگی، اور یہ کہ اگر کوئی قسط اپنے وقتِ مقرّرہ سے لیٹ ہوجائے تو اس پر مزید کوئی چار جز بھی عائد نہ کیا جائے تو اس صورت میں کار وغیرہ خریدنا اور قسطوں کا معاملہ کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا ورنہ نہیں، لہذا سائل کو بھی چاہئیے کہ وہ مندرجہ بالا شرطوں کے موافق بینک سے معاملہ کر کے گاڑی حاصل کرلے۔
کما فی السنن الترمذی: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح. والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما الخ (2/524 رقم الحدیث 1231)۔
و فی المبسوط لشمس الدین السرخسی: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ (13/8 باب البيوع الفاسدة)۔
و فی الدرالمختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع الخ (4/531)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1