السلام علیکم!
کیا بیعانہ کے بعد اصل مکمل رقم ادا کیے بغیر پلاٹ بیچنے کی اجازت ہے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ پلاٹ زمین پر موجود ہے ؟
واضح ہو کہ اگر پلاٹ کی باقاعدہ خرید و فروخت کا معاملہ ہو چکا ہو اور پلاٹ کے مالک نے خریدار کو پلاٹ کا قبضہ دے دیا ہو، تو بیعانہ کی رقم کی ادائیگی کے بعد پلاٹ کی مکمل قیمت ادا کرنے سے قبل بھی خریدار کے لئے کسی اور کو پلاٹ فروخت کر نا شرعاً جائز اور درست ہو گا ۔
كما فى بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) تفسير التسليم، والقبض فالتسليم، والقبض عندنا هو التخلية، والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له، وكذا تسليم الثمن من المشتري إلى البائع اھ (5/ 244)-
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولا يشترط القبض بالبراجم؛ لأن معنى القبض هو التمكين، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة، وإن كان أخذه لنفسه لا ليرده على صاحبه صار قابضا له عقيب العقد بلا فصل حتى لو هلك قبل الوصول إليه يهلك على المشتري؛ لأن قبضه قبض ضمان، وقبض الشراء أيضا قبض الضمان فتجانس القبضان فتناوبا اھ (5/ 148)-
وفي شرح المجلة: کما یجوز بیع العقار قبل قبضه یجوز أیضا التصرف فیه بالرھن والھبة (إلی قوله) غیر أن التصرف المذکورة وإن کانت جائزة إلا أنھا لا تکون لازمة ونافذة إلا بدفع الثمن للبائع أو إجازته لھا (إلی قوله) إن المشتری إذا قبض المبیع بإذن البائع صار مالکا له اھ (۱/ ۲۰۱)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1