(+92) 0317 1118263

خرید و فروخت

پھلوں کے پک جانے سے قبل خریدوفروخت

پھلوں کے پک جانے سے قبل خریدوفروخت فتوی نمبر: 41281

الاستفتاء

آم اور بعض اوقات دیگر پھلوں کی خرید و فروخت پھلوں کی تیاری سے پہلے ہوتی ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہیں تو پھر مارکیٹ سے خریدنے والے کسٹمر کیلئے پھل خریدنے کا کیا حکم ہے؟
اور مارکیٹ سے خریدنے والے کسٹمر کیلئے ایسے پھلوں کے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

آ م یا دیگر پھل اگر درختوں پر با لکل ظاہر نہ ہو ئے ہوں ،توایسی صورت میں ان کی خریدو فروخت قطعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر پھل درختوں پر ظاہر ہوچکے ہوں لیکن ابھی تک پک کرتیار نہ ہوئے ہوں ، توایسی صورت میں اگر خریدارکی طرف سے پھل پکنے تک پھلو ں درختوں پرباقی رکھنے کی شر نہ لگائی جائے ،بلکہ بغیر کسی شرط کےخریدوفرخت ہوجائے ، توشرعاً یہ خریدوفرخت جائزہوگا، لیکن ماکیٹ میں جو پھل دستیاب ہوتے ہیں اگران کے متعلق یقینی طور پر معلوم نہ ہو ، کہ غیر شرعی طریقے سے اس کی خرید وفروخت ہوئی ہے توعام لوگوں کےلئےمارکیٹ سے پھل خرید کر اس کواستعمال کرناجائز اوردرست ہوگا۔


کمافی تبیین الحقائق: لان بیع الثمار قبل الظہور لایصح اتفاقاً ولوباع ثمرۃ بدا صلاحھا او لاصح لانہ مال متقوم منتفع بہ فی الحال اورفی المآل (ج12/24)۔


وافتی الحلوانی بالجواز وزعم انہ مروی عن اصحابنا ،وکذا حکی عن الامام الفضلی وقال استحسن فیہ لتعامل الناس وفی نزع الناس عن عادتھم (4/555) واللہ اعلم