السلام علیکم!
آج کل ڈی ایچ اے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لئے قرعہ اندازی کا طریقہ کار اپناتی ہے، ہر امیدوار کو کچھ رقم (5000) دینی پڑتی ہے، اس قرعہ اندازی میں اپنا نام ڈالوانے کے لئے ،اس کے بعد جس کا نام نکل آتا ہے، اس سے پلاٹ کی انسٹالمنٹ (قسطوں) کا معاملہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب جس کا نام نکل آیا وہ الگ سے رقم جمع کروائے گا، لیکن جمع شدہ 5000 ایڈجسٹ نہیں کیا جاتا قسطوں میں اور جس کا نام نہیں نکلتا اس کے 5000 ضائع ۔ تو کیا اس سلسلے میں اپنی رقم جمع کروانا قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے ؟ جزاک اللہ
ہماری معلومات کے مطابق صورتِ مسئولہ میں مذکور قرعہ اندازی تعین مشتری (خریدار کو متعین )کرنے کے لئے ہوتی ہے، اور اس میں شرکت کی جو اجرت لی جاتی ہے، وہ پروسس کی فیس ہوتی ہے، اگر واقعۃً بھی ایسا ہو تو اس کے لینے میں شرعاً کوئی محظور نہیں ،اس لئے اس میں حصہ لے سکتے ہیں، مگر قرعہ اندازی کرانے والوں کو چاہئیے کہ فیس کی مقدار اتنی نہ رکھیں جو اجرت مثل سے بہت زیادہ ہو۔
كما في الفتاوى الهندية: ذكر الناطفي أن القرعة ثلاث الأولى لإثبات حق البعض وإبطال حق البعض وإنها باطلة كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه ثم يقرع والثانية لطيبة النفس وإنها جائزة كالقرعة بين النساء للسفر والقرعة بين النساء في البداية للقسم والثالثة لإثبات حق واحد في مقابلة مثله فيفرز بها حق كل واحد منهما وهو جائز كذا في فتاوى قاضي خان اھ (5/ 217)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1