زید نے قسطوں پر ایک پلاٹ لیا، جس میں کمپنی نے زمین کی نشاند ہی تو کردی، مگر اس بات سے آگاہ نہیں کیا کہ پلاٹ کون سا ہوگا، زید پلاٹ کی ماہانہ قسطیں ادا کرتا رہا، پھر اس کی مالی حالت ناساز ہونے کی وجہ سے قسطیں جمع کروانا مشکل ہو گیا، وہ اپنا پلاٹ بیچنا چاہتا ہے ،اور کمپنی کی یہ پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا پلاٹ دوران اقساط بیچنا چاہے ،تو کمپنی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ،اور ایسا کرنے پر کمپنی دوسرے شخص کے نام پلاٹ کے کاغذات کر دیتی ہے، جس سے وہ پلاٹ دوسرے شخص کے نام ہو جائے گا، اور پہلے والے شخص کا اس سے تعلق ختم ہو جائے گا ،تو کیا ایسی صورت میں پلاٹ بیچنا جائز ہے؟ اور جتنی قسطیں جمع کروائی ہیں، مارکیٹ میں اس سے زیادہ قیمت پر وہ پلاٹ بکے گا جو کہ خریدار کے علم میں بھی ہے تو اس صورت میں جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ مارکیٹ کی قیمت کے حساب سے پلاٹ کی قیمت لینا جائز ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور قسم کے پلاٹ کی خرید و فروخت قیمت خرید سے کم یا زیادہ میں جائز ہے، جبکہ غیر منقولی چیزوں جیسے زمین وغیرہ میں خریدنے کے بعد آگے بیچنے کیلئے خریدار کا باضابطہ قبضہ ضروری نہیں۔
كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار اھ (5/ 147)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1