مل میں گنے دیکر ایک رسید ملتی ہے، جس کو ’’CPR‘‘کہتے ہیں، جس کو مالک کم قیمت میں کسی کو نقد میں فروخت کرتا ہے، یہ حلال ہے یا حرام ؟
صورتِ مسئولہ میں مالک کا ’’رسید‘‘ کو نقد رقم کے بدلے کم قیمت میں فروخت کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اس معاملے کو درست اور جائز طریقے سے انجام دینے کیلئے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ بنیادی طور پر اس معاملے میں الگ الگ دو عقد کر لیے جائیں، ایک یہ کہ رسید کا مالک اپنے رسید کی رقم وصول کرنے کیلئے اُس شخص کو اپنا وکیل بنائے اس طور پر کہ فلاں مل سے میری اتنی رقم وصول کر لیں، پھر جتنی رقم اس رسید سے کاٹنی ہو، وہ رقم بھی باہمی رضامندی سے باقاعدہ اجرت کے طور پر طے کرلیں کہ اتنی رقم آپ کو اجرت دونگا۔ اس کے بعد رسید کا مالک مذکورہ شخص سے کہے کہ آپ مجھے اتنے روپے قرض دیدیں، جب آپ مل سے رسید کیش کروائیں تو میں نے آپ سے ابھی جو قرضہ لیا ہے یہ اُسی رسید سے وصول کر لینا اور باقی رقم آپ کے آنے جانے اور محنت وغیرہ کی طے شدہ مزدوری ہے، اس لئے وہ باقی رقم میں آپ کو اجرتِ مقررہ میں چھوڑتا ہوں۔
فی حاشية ابن عابدين: سئل عن بيع الجامكية وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية فيقول له رجل بعني جامكيتك التي قدرها كذا بكذا أنقص من حقه في الجامكية فيقول له بعتك فهل البيع المذكور صحيح أم لا لكونه بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح اھ (4/ 517)-
و في البحر الرائق: الأجير المشترك من يعمل لغير واحد (إلى قوله) قال رحمه الله ( ولا يستحق الأجرة حتى يعمل كالقصار والصباغ والخياط والنساج ) لأن الإجارة عقد معاوضة فيقتضي المساواة بينهما كما تقدم (8/ 30)-
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام: إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز (8/ 3) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1