سوال یہ ہے کہ میں موٹر سائیکل قسطوں پر دیتا ہوں یعنی شو روم سے نیا لے کر دیتا ہوں، اس کی قیمت اگر 65 ہزار ہو تو میں ایک سال کی قسط پر اس سے 25 ہزار منافع لیتا ہوں ،یعنی 90 ہزار لیتا ہوں، اور اس سے کہتا ہوں کہ آپ ماہانہ قسط دو، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ماہانہ قسط نہیں ہو سکے گی، آپ ہم سے سال کے بعد یکمشت 90 ہزار لے لو، ایک یا دو ماہ ہم سے دیر ہو جائے ،تو بھی یہی رقم دینگے، میں ان سے وہی 90 ہزار لیتا ہوں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سود ہے۔ براہِ مہربانی آپ بتائیں ایسا کرنا سود تو نہیں ہے؟
نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر بیچنے کی صورت میں زیادہ رقم لینا شرعاً بھی جائز اور درست ہے ،اور یہ شرعاً سود کے زمرے میں بھی نہیں آتا ،اور سوال میں مذکور صورت کا بھی یہی حکم ہے۔ جبکہ قسطوں پر خرید و فروخت میں درجِ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
(1) :مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ۔
(۲): ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے ۔
(۳): یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی۔
(۴): کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔
کما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة أربعة وجمهور الفقهاء والمحديثين فقد أجاز والبيع المؤجل بأكثر من سعر النقد بشرط أن بيت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق عليه عند العقد اھ (۱/ ۷)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1