السلام علیکم !
حضرت آپ سے پوچھنا ہے آج کل CSD کے توسط سے موٹرسائیکل قسطوں پر ملتا ہے ،لیکن قسطوں پر جو ادائیگی ہوتی ہے وہ اس قیمت سے زیادہ ہوتی ہے جو اصل موٹر سائیکل کی قیمت ہے ایک تو یہ بتائیں یہ زیادہ ادائیگی کرنا جائز ہے ؟
دوسرا اگر مقررہ تاریخ سے ایک دن بھی لیٹ جمع کریں تو ۲ فیصد کا اضافی جرمانہ لگتا ہے، کیا اس طرح جرمانہ لگانے کے بعد ہمارا موٹر سائیکل قسطوں پر لینا جائز ہے کیونکہ ہم نے علماء سے پوچھا وہ کہتے ہیں سود میں آتا ہے برائے مہربانی آپ بتائیں کہ موٹر سائیکل لینا جائز ہے کہ نا جائز ؟
درج ذیل شرائط کے ساتھ ادھار اور قسطوں پر بھی کسی چیز کا لینا شرعاً جائز اور درست ہے ۔ (۱) مجلس عقد میں ہی یہ طے ہو کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ۔ (2) جتنی قسطیں ہوں وہ متعین کر دی جائیں۔(۳) کسی قسط کے شارٹ یا مؤخر ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ مقرر نہ کیا جائے، ورنہ یہ معاملہ شرعاً جائز نہ ہوگا۔
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها، فيدفع البائع البضاعة المبيعة إلى المشتري حالّة، ويدفع المشتري الثمن في أقساط مؤجلة، وإن اسم (البيع بالتقسيط) يشمل كل بيع بهذه الصفة سواء كان الثمن المتفق عليه مساويا لسعر السوق، أو أكثر منه، أو أقل، ولكن المعمول به في الغالب أن الثمن في (البيع بالتقسيط) يكون أكثر من سعر تلك البضاعة في السوق اھ (ص: 11)
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم (إلی قوله) فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. اھ (13/ 13) والله تعالى اعلم
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1