سوال یہ ہے کہ جس طرح لوگ عام سامان نقد اور قسطوں پر بیچتے ہیں، کیا اس طرح سونا، چاندی بھی منافع کے ساتھ قسطوں پر بیچ سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا زیادہ منافع پر بیچنے سے سود کے زمرے میں آئیگا ؟
اگر مجلس عقد میں ہی پوری قیمت طے کرکے سونے پر قبضہ دے دیا جائے اور پیسے قسطوں پر لیے جائیں تو سونے کو بھی نقد کے مقابلہ میں قسطوں پر زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): [تنبيه] سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين اھ (5/ 180)
و في المبسوط للسرخسي: وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه فص أو ليس فيه فص بكذا فلسا وليست الفلوس عنده فهو جائز أن تقابضا قبل التفرق اھ (14/ 42)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1