میں ایک اکاؤنٹیٹ ہوں ،اور مجھے ایک کار بنک سے قسطوں پر لینی ہے کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟
اگر کوئی بنک گاڑی کی ملکیت اور اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اسے گاہک پر درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیچ دے، تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز و درست ہے ، اور وہ شرائط یہ ہیں:
(1) :پہلی مجلس عقد میں یہ بات طے ہو جائے کہ یہ معاملہ نقد ہو گا یا ادھار ؟
(۲) ادھار کی صورت میں کل کتنی قسطیں ہونگی ؟ ہر قسط کی کتنی مالیت ہوگی ؟
(۳) اگر کوئی قسط مؤخر ہو جائے تو اس پر مزید کوئی چارجز نہ ہونگے بلکہ جو رقم پہلی مجلس میں طے ہوئی ہے وہی لی جائے گی زائد نہیں لی جائے گی۔
كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه اھ (5/ 147)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في جامع الفصولين: شراه ولم يقبضه حتى باعه البائع من آخر بأكثر فأجازه المشتري لم يجز؛ لأنه بيع ما لم يقبض اهـ. (5/ 149) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1