کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ احسان نامی شخص کے 256 ڈرم ایرانی ڈیزل تھے، جو تاج محمد کے ڈیزل ڈپو میں رکھے ہوئے تھے۔ایک دن حاجی لیاقت نے تاج محمد کو فون کر کے پوچھا کہ کیا ڈیزل موجود ہے ؟ تاج محمد نے بتایا کہ ڈیزل تو موجود ہے، لیکن احسان کا ہے۔ اسپر حاجی لیاقت نے کہا کہ احسان سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ کس ریٹ پر دے گا۔تاج محمد نے احسان سے بات کی تو احسان نے کہا کہ ساٹھ ہزار روپے فی ڈرم کے حساب سے دے دو۔پھر تاج محمد نے حاجی لیاقت کو یہی ریٹ بتایا تو حاجی لیاقت نے کہا"ٹھیک ہے ، میں نے لے لیا۔ میرے لیے 256 ڈرم رکھ دیں، میری گاڑیاں بعد میں آئیں گی، تب ڈیزل اٹھالوں گا۔لیکن آدھے گھنٹے بعد حاجی لیاقت نے دوبارہ فون کیا اور کہا کہ مارکیٹ میں ریٹ کم ہو گیا ہے ، اس لئے میں ساٹھ ہزار روپے والے حساب سے نہیں لیتا، اگر چھپن ہزار روپے فی ڈرم کے حساب سے دوگے تو لے لوں گا۔ تاج محمد نے کہا کہ آپ کے ساتھ تو پہلے ہی سودا ہو چکا ہے ،اب اس طرح واپس ہونا درست نہیں۔ بعد میں احسان کو بھی یہ بات بتائی گئی تو اس نے بھی کہا کہ اب پہلے والا طے شدہ سودا ہی رہے گا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ گزرنے پر احسان نے ایک آدمی کے ذریعے حاجی لیاقت کو پیغام بھیجا کہ آپ کا سودا ہو چکا ہے ، آکر اپنا ڈیزل لے جائیں۔ لیکن حاجی لیاقت نے جواب بھیجا کہ " میں یہ ڈیزل نہیں لوں گا، یہ احسان کا تیل ہے ، وہ چاہے کسی اور کو بیچ دے، چاہے خیرات کر دے یا ضائع کر دے، مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں،جب حاجی لیاقت نے اس طرح صاف انکار کر دیا تو احسان نے کچھ دن مزید انتظار کیا، لیکن چونکہ ڈیزل کے ریٹ مسلسل اوپر نیچے ہو ر ہے تھے اور نقصان کا ڈر تھا، اس لیے اس نے وہی ڈیزل کسی دوسرے شخص کو اس وقت کے مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر دیا۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا فون پر اس طرح یہ سو دا شرعاً مکمل ہو گیا تھا یا نہیں ؟کیا صرف مارکیٹ ریٹ کم ہونے کی وجہ سے خریدار سوداختم کر سکتا تھا ؟جب اس نے ڈیزل لینے سے صاف انکار کر دیا تو اس پر شرعاً کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟کیا اس کے بعد احسان کیلئے وہ ڈیزل کسی اور کو بیچنا جائز تھا؟
اگر جائز تھا تو اس کی شرعی بنیاد کیا تھی؟ اور اگر جائز نہیں تھا تو پھر احسان کو کیا کرنا چاہیئے تھا؟موجودہ صورت میں حاجی لیاقت پر کیا لازم ہے اور احسان پر کیا لازم ہے ؟
قرآن و سنت اور کتب فقہ کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ جیسے براہ راست ایجاب وقبول سے سودا درست منعقد ہوجاتا ہے ایسا ہی فون پر ایجاب وقبول سے بھی سودا منعقد ہوجاتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب تاج محمد کی اجازت طلب کرنے پر احسان نے تاج محمد سے کہا کہ ساٹھ ہزار روپے فی ڈرم کے حساب سے دے دو تو اس سے تاج محمد، احسان کا وکیل بالبیع(فروخت کرنے کا وکیل ) ہوگیا اور بعد میں جب انہوں نے حاجی لیاقت کو ساٹھ ہزار روپے فی ڈرم کی قیمت بتاکر حاجی لیاقت نے سودا فائنل کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ 265 ڈرم میرے لیے رکھ دیں، میری گاڑیاں بعد میں آئیں گی، تب ڈیزل اٹھالوں گا، تو اس سے دونوں کے درمیان عقد ِبیع مکمل ہوکر حاجی لیاقت ڈیزل کے ان ڈرموں کا مالک بن گیا تھااور ساٹھ ہزار فی ڈ رم کے حساب سے اس کی قیمت کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم ہوچکی تھی، اس کے بعد اس کا از خود اس سودا سے انکار کرنا اور پیمنٹ کی ادائیگی نہ کرنا شرعاً درست نہیں تھا، بلکہ اس کے اس عمل کی وجہ سے نص قرآنی ' ' يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود ''(اے ایمان والوں ،عہد پورا کرو) کی مخالفت لازم آئی ، جس پر اسے توبہ واستغفار کرنا چاہیئے ، تاہم اس کے باوجود جب لیاقت کے انکار کی وجہ سے احسان نے بعد میں وہ ڈیزل کسی اور شخص پر فروخت کردیا تو اس کے اس عمل کی وجہ سے شرعاً حاجی لیاقت اور احسان کے درمیان اقالہ درست منعقد ہوا، اور حاجی لیاقت کے ذمہ واجب الادا رقم بھی ساقط ہوگئی ،لہذا اب حاجی لیاقت کے ذمہ احسان کو کچھ دینا لازم نہیں ۔
کمافی الھدایۃ:وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية الخ(کتاب البیوع،ج:3،ص:33،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفیھا ایضاً:لأن أحد المتعاقدين لا يتفرد بالفسخ كما لا يتفرد بالعقد الخ(مسائل شتی فی کتاب القضی،ج:3،ص:214،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی الھندیۃ:والخلاف في الوكالة المطلقة أما إذا قال الموكل بعه بألف أو بمائة لا يجوز أن ينقص بالإجماع كذا في السراج الوهاج الخ(الباب الثالث في الوكالة بالبيع،ج:3،ص:588،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفی درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام:ولا فائدة في أن يشترط حين الإقالة أن يدفع الثمن من جنس آخر أو ينقص للندامة أو لأسباب أخرى أو أن يزاد الثمن أو يرد بدل غيره أو يؤجل كما أن السكوت حين الإقالة عن الثمن لا يضر شيئا يعني أن كل ما يشترط في الإقالة من ذلك فهو باطل والإقالة صحيحة؛ لأن حقيقة الفسخ رفع الأول بحيث يكون كأن لم يكن فعلى ذلك تثبت الحال الأولى وثبوت هذه الحال يقتضي رجوع عين الثمن لمالكه الأول وعدم دخوله في ملك البائع رد المحتار الخ(حکم الاقالۃ،ج:1،ص:172،مط: دار الجيل)
وفی فقہ البیوع:واماالھاتف(التلیفون والجھاز اللاسلکی،فالتعاقد بھما کالتعاقد،مشافھۃ، وان کان احدھما لا یری الآخر،لان ذالک لیس بشرط لصحۃ العقد،قال النوویؒ لو تنادیا وھما متباعدان،وتبا یعا، صح البیع بلا خلاف الخ(البیع بالکتابۃ ولالات الحدیثۃ،ج:1،ص:40 ،مط:مکتبہ معارف القرآن)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1