خرید و فروخت

مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ڈیل ختم ہونے کی شرط لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
94860
| تاریخ :
2026-05-02
معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ڈیل ختم ہونے کی شرط لگانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے 90 دن کے معاہدے پر اپنا گھر بیچا ہے اور اس معاہدے کی تاریخ 30 اپریل 2026 آخری تاریخ طے کی گئی تھی، جبکہ پوری رقم وصول نہ ہونے کی صورت پر 30 اپریل 2026 کو تحریری طور پر معاہدے میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اب چونکہ 30 اپریل 2026 کو رقم پوری نہ وصول ہونے کی صورت میں معاہدہ ختم ہو چکا ہے، لہذا اب ہم اس سے زیادہ کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ،جبکہ 30 اپریل 2026 سے پہلے معاہدے میں جو رقم طےکی گئی تھی یہ اس سے زیادہ ہے ۔تو کیا 30 اپریل 2026 کے ختم ہونے کی صورت میں کیا ہم زیادہ ڈیمانڈ کر سکتے ہیں اور یہ ہمارے لئے جائز ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کا مکان فروخت کرتے وقت 90 دن میں مکمل قیمت کی ادائیگی کی شرط لگانا شرعاً درست تھا۔ اب اگر خریدار متعینہ مدت میں ادائیگی کر دیتا تو بیع لازم و نافذ ہو جاتی۔ تاہم جب اس نے متعینہ مدت میں ادائیگی نہیں کی اور مدت ختم ہو گئی تو یہ معاملہ شرعا فاسد ہو گیا۔اور بیعِ فاسد کو ختم کرنا شرعاً ضروری ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں گھر کی سابقہ بیع کو ختم کیے بغیر سائل کا خریدار سے سابقہ طے شدہ قیمت سے زیادہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز اور درست نہیں۔ البتہ سابقہ معاملات ختم کرکے بیعانہ کی مکمل رقم واپس کرنے نیز گھر بھی واپس اپنی تحویل میں لینے کے بعد اگر دوبارہ باہمی رضامندی سے نئی قیمت پر عقد بیع کر لیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا اور دونوں فریقین کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام[الفصل الثالث في حق خيار النقد] النقد هنا إعطاء ثمن الشيء والنقد أيضا إعطاء النقد. خلاصة الفصل:
1 - يكون خيار النقد للبائع وللمشتري. 2 - يجب تعيين المدة في خيار النقد. 3 - يفسد البيع في خيار النقد إذا لم يؤد الثمن في المدة المعينة. 4 - خيار النقد لا ينتقل إلى الوارث بوفاة المشتري. [ (المادة 313) تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا]
(المادة 313) إذا تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا وإن لم يؤده فلا بيع بينهما صح البيع وهذا يقال له خيار النقد (انظر المادة 83 وشرح المادة 188) كما يشترط للمشتري خيار النقد يشترط للبائع أيضا.(الی قولہ) فالقياس يوجب عدم جواز البيع الذي يشترط فيه خيار النقد إلا أنه جوز استحسانا ووجه الاستحسان الاحتراز من مماطلة المشتري لأن المشتري إن لم يدفع الثمن فالحاجة تمس إلى فسخ البيع (انظر مادة 20)الخ
[ (المادة 314) إذا لم يؤد المشتري الثمن في المدة المعينة](المادة 314) : إذا لم يؤد المشتري الثمن في المدة المعينة كان البيع الذي فيه خيار النقد فاسدا. المراد من المدة المعينة ما يعينه الطرفان في عقد البيع فإذا أدى المشتري الثمن إلى البائع في تلك المدة أصبح البيع صحيحا ولازما أما إذا لم يؤد المشتري الثمن في تلك المدة بقي المبيع على حاله فالبيع الذي ينعقد بخيار النقد لا ينفسخ بل يكون فاسدا وإذا كان المبيع في يد المشتري وباعه بعد مرور المدة أو وهبه وسلمه آخر كان تصرفه نافذا ويضمن المشتري بدله إلى البائع. أما إذا لم يكن المبيع في قبضته فتصرفه لا يكون نافذا (انظر المادتين 371 و 382) .
توضيح القيود: (في المدة المعينة) يؤخذ من هذه العبارة أن المشتري إذا لم يؤد الثمن في المدة المعينة بل بعد انقضائها فلا ينقلب البيع إلى الصحة لأنه صار فاسدا بعدم الأداء ولا يرتفع الفساد بعد ذلك الخ (ج:1 ص:309 ط: دار الجیل)۔
و فی الدر المختار: (فإن اشترى) شخص شيئا (على أنه) أي المشتري (إن لم ينقد ثمنه إلى ثلاثة أيام فلا بيع صح) استحسانا خلافا لزفر، فلو لم ينقد في الثلاث فسد فنفذ عتقه بعدها لو في يده فليحفظ. (و) إن اشترى كذلك (إلى أربعة) أيام (لا) يصح خلافا لمحمد. (فإن نقد في الثلاثة جاز) اتفاقا؛ لأن خيار النقد ملحق بخيار الشرط، فلو ترك التفريع لكان أولى الخ
و فی الشامیۃ تحت مطلب خيار النقد (قوله: على أنه أي المشتري إلخ) وكذا لو نقد المشتري الثمن على أن البائع إن رد الثمن إلى ثلاثة فلا بيع بينهما صح أيضا، والخيار في مسألة المتن للمشتري؛ لأنه المتمكن من إمضاء البيع وعدمه، وفي الثانية للبائع؛ حتى لو أعتقه صح ولو أعتقه المشتري لا يصح نهر.(الی قولہ)(قوله: فنفذ عتقه إلخ) أي وعليه قيمته بحر عن الخانية، وهذا تفريع على قوله فسد. قال: في النهر: واعلم أن ظاهر قوله فلا بيع يفيد أنه إن لم ينفذ في الثلاث ينفسخ. قال: في الخانية: والصحيح أنه يفسد ولا ينفسخ، حتى لو أعتقه بعد الثلاث نفذ عتقه إن كان في يده. اهـ. وأما عتقه قبل مضي الثلاث فينفذ بالأولى، كما لو باعه كما مر؛ لأنه بمعنى خيار الشرط. (قوله: وإن اشترى كذلك) أي على أنه إن لم ينقد الثمن إلى أربعة أيام. (قوله: لا يصح) والخلاف السابق في أنه فاسد أو موقوف ثابت هنا نهر عن الذخيرة. (قوله: خلافا لمحمد) فإنه جوزه إلى ما سمياه الخ (کتاب البیوع باب خیار الشرط ج:4 ص:571 ط: سعید باکستان)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94860کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بٹ کوئین کی خریدوفروخت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 5
  • اسمگل شدہ چیزوں کی خرید و فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 1
  • اسٹاک مارکیٹ میں ڈے ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 1
  • پھل تیارہونے سے پہلے باغ کی خریدوفروخت کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • پولیس کے پکڑے ہوئے مال کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 0
  • پھلوں کے پک جانے سے قبل خریدوفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • قادیانی سے خرید و فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • کرکٹ میچ یا دیگر کھیلوں کے ٹکٹ بلیک میں بیچنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 1
  • چالیس کلو گندم کی خریداری پر دو کلو کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   خرید و فروخت 0
  • دوکاندار کا تول میں زیادہ کر کے بیچنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خرید و فروخت 1
  • سونے کو نقد رقم کے عوض ادھار پر زیادہ قیمت میں دینا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 2
  • نفع کی غرض سے سونا لے کر رکھنا اور سونے کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 1
  • اسٹیٹ ایجنسی یعنی پراپرٹی کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • اسٹیٹ ایجنسی کے کاروبار کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • پارسل ڈیلیور نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اماؤنٹ واپس لینا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • غیر مسلم کو ٹی وی بیچنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • انعام میں نکلا ہوا پرائز بانڈ ٹیکس کٹوانے کیلئے خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • کسی نے کوئی چیز خرید کر لانے کے لئے کہا تو اس میں اپنا منافع رکھنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • ٹی وی خریدنا ، بیچنا اور دیکھنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • قسطوں پر کار لیکر نقد پر فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • گابھن جانور کے خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 1
  • قادیانی کمپنی کی مصنوعات کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • عورتوں کے لباس کی خریدو فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
  • ادھار پر خریداری کے بعد ،وقت سے پہلے رقم کی ادئیگی پر قیمت میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   خرید و فروخت 0
Related Topics متعلقه موضوعات