کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میں چائنہ جاکر کپڑا پسند کرتا ہوں، کمپنی جو بھی بل بنا کر دیتی ہیں وہ میں انویسٹر کو دیدیتا ہوں، اور اس پر انویسٹر کا فيصد طے کر لیتا ہوں، کپڑا ملنے کے بعد وہ بل ادا کر دیتا ہے، پھر جب تین چار مہینے بعد میرے پاس پیسے آتے ہیں تو میں اس شخص یعنی انویسٹر کے پیسے متعین کردہ فیصد سمیت لوٹا دیتا ہوں۔ کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟
سوال میں ذکر کرده صورت قرض کی ہے اور چونکہ قرض پر کسی بھی قسم کا نفع شرعا ًسود ہونے کی بنا پر ناجائز ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اس طرح بل کی ادائیگی کے لیے انويسٹر سے رقم قرض لے کر اس کا فیصدی حصہ دینا شرعاً سود ہونے کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ سائل مذکور انويسٹر سے بطور مضاربت کے رقم لے اور منافع میں سے فیصدی حصہ باہمی رضامندی سے طے کر لیا جائے، جبکہ نقصان کی صورت میں، منافع اگر ہوا ہو تو اس میں سے نقصان کو پورا کیا جائے گا، اور اس صورت میں اگر نقصان منافع کے برابر ہوا ہو تو مضارب (سائل) کو کچھ نہیں ملے گا، لیکن اگر نقصان کی تلافی منافع میں سے پوری نہ ہو تو ایسی صورت میں اس نقصان کو انویسٹر برداشت کرے گا، مضارب (سائل) سے اس نقصان کی تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
كما في المطالب العالية: علي رضي الله عنه قال رسول الله ﷺ: «كل قرض جرَّ منفعة فهو ربا. [رقم الحديث (1440)]
وفي الهداية: قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة. قال: "فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله" لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر فتنقطع الشركة في الربح، وهذا لأنه ابتغى عن منافعه عوضا ولم ينل لفساده، والربح لرب المال لأنه نماء ملكه، وهذا هو الحكم في كل موضع لم تصح المضاربة. [كتاب المضاربة، (3/ 200)]
وفي الفتاوى الهندية: (وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول وذلك بألفاظ تدل عليها من لفظ المضاربة والمقارضة والمعاملة وما يؤدي معاني هذه الألفاظ بأن يقول رب المال خذ هذا المال مضاربة على أن ما رزق الله أو أطعم الله تعالى منه من ربح فهو بيننا على كذا من نصف أو ربع أو ثلث أو غير ذلك من الأجزاء المعلومة. [كتاب المضاربة،الباب الأول في تفسير المضاربة وركنها وشرائطها وحكمها، ط: رشيدية ج:4 ص: 285)]
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1