میں نے ایک رشتہ دار سے ایک قظعہ آراضی خریدا تاھم دیگر حصہ داران کی اس سودے کے خلاف قانونی کاروائی کی وجہ سے یہ سودا تقریباً دو سال کےبعد ختم کرنا پڑا. فروخت کنندہ نے دیگر حصہ داران سے مشاورت نہیں کی تھی. اپنے مالی نقصان سے بچنے کے لیے، کیا میرے لیے اس زمین کی موجودہ قیمت واپس لینا جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کے لیے قطعہ اراضی کا سودا ختم کرنے کی صورت میں مجلس عقد میں اس قطعہ اراضی کی جو قیمت مقرر ہوئی تھی و ہی قیمت ہی سائل کو لینا جائزہے اس سے زیادہ لینا یا اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سسن ابی داود: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما أقاله الله عثرته»اہ(باب الاجارۃ،باب فی فضل الاقالۃ، رقم الحدیث: ٣٤٦٠،مط:المكتبة العصرية بيروت)
وفي الهداية: "الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما "فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول".اہ(باب الإقالة، ج:٣،ص: ٥٥،مط: دار احياء التراث العلمی)
وفی الدرالمختارمع التنویر الابصار: ( تصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه )
وفي رد المحتار تحت(قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا، قال في الفتح: والأصل في لزوم الثمن، أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين، وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول،اہ(باب الاقالۃ،ج:٥،ص:١٢٥ مط: سعيد)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1