کیا میں اُس ہسپتال میں، جہاں میں خریداری (procurement) کے شعبے میں کام کرتی ہوں، ایک کاروبار شروع کر سکتی ہوں جس میں، میں خود ہی میڈیسن اور سرجیکل سامان خریدتی ہوں؟ اور اُس حیثیت میں وینڈر (ڈسٹری بیوٹر) کو سرنج کی مکمل قیمت ادا کرتی ہوں، اور سرجیکل کمپنی سے وینڈر کے نام پر ڈسٹری بیوشن کا معاہدہ کرتی ہوں، اور 80/20 فیصد منافع کی تقسیم طے کرتی ہوں؟ اور میں یہ کاروبار اس طرح شروع کروں کہ ساری رقم میں خود لگاؤں، کمپنی سے وینڈر کے نام پر سرنج خریدوں، لیکن ہسپتال انتظامیہ اور کمپنی کو یہ نہ بتاؤں کہ دراصل میں ہی اصل خریدار ہوں تو کیا یہ طریقہ کار حلال ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنے منصب اور عہدے کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شناخت چھپاکر خلاف ضابطہ وینڈر کے نام پر از خود کاروبار کرنا شرعاً خیانت اور دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے درست نہیں، البتہ اگر سائلہ مذکور طریقہ کار سے کاروبار کرنے کے لیے انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کرلےتو اس صورت میں اس کاروبار کی گنجائش نکل سکتی ہے ( جس کا طریقہ کار اجازت ملنے کے بعد معلوم کیا جاسکتاہے ) بصورتِ دیگر اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی سنن أبی داؤد: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما، فسأله "كيف تبيع؟ " فأخبره، فأوحي إليه: أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه، فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليس منا من غش".( باب فی النھی عن الغش، ج:5، ص:323، ناشر: دار الرسالۃ العالمیۃ )-
و فی الشامیۃ : قولہ ( لأن الغش حرام ) ( إلی قولہ ) قال بعض مشایخنا یفسق و ترد شھادتہ إلخ ([مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،ج: 5 ص: 47، ناشر: سعید )-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1