بسمہ تعالیٰ
محترم و مکرم مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام مسنون عرض یہ کہ ایک مسئلہ کا شرعی حل مطلوب ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خاندان کے پاس آباؤاجداد کی زمین کا ایک حصہ ہے جس کی ایک طرف میں ایک قبر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی قبر ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی تھے اس لیے لوگ اس قبر پر نذر و نیاز کرتے ہیں۔ ہم وہ زمین بیچ رہے ہیں۔کیا ہم پوری زمین بیچ کر پیسے حاصل کر سکتے ہیں ؟کیونکہ اس قبر کا زمین کے کاغذ پر کوئی ذکر نہی ہے اس لیے زمین کو کاغذ پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔یا مکمل فروخت کرنے بعد اس قبر کی جگہ کے بقدر پیسے کو کسی خیر کے کام میں صدقہ یا وقف کرنا سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے ؟
فقط والسلام
واضح ہوکہ كسي كي ذاتي زمين ميں اگرکوئی مقبرہ بنادیاجائے توجب تک قبرمیں میت کاجسم باقی ہونے کاقوی امکان موجودہوتواس وقت تک اس زمین پراس قسم کا تصرف کرنا جو تکریم میت کے خلاف ہو شرعا درست نہیں۔ البتہ جب میت بوسیدہ ہو کر مٹی میں مل جائے اور قبر پرانے آثار کے ساتھ باقی نہ رہے، تووہ زمین اپنی اصل حیثیت پر لوٹ آتی ہے، اور اس پر تصرف کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر مذکور قبر سائل کے آبا و اجداد کی ملکیتی زمین میں ہو، اور اس زمین کو کبھی قبرستان وغیرہ کےلیے وقف نہ کیا گیاہو، جبکہ قبر پرانی ہونے کے سبب میت کے مٹی میں مل جانے کا غالب گمان بھی ہو، توسائل کے لیے اس زمین کو قبرسمیت خریدار کوقبرکی جگہ کی نشاندہی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے۔قبر کی جگہ کے بدلے رقم صدقہ یا وقف کرنا شرعا ضروری نہیں۔
کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان.
إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس.»(1/ 167)
الفقه علی مذاہب الأربعة : وإذا بلي الميت وصار ترابا في قبرہ جاز نبش القبر و زرعه والبناء علیه وغیر ذٰلک باتفاق۔ ْ5381/ دار الفکر بیروت
وفي«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» : ثم روى الحسن عنه أنه إذا رجع بعد الدفن لا يرجع إلى المحل الذي دفن فيه ويرجع فيما سواه، ثم إذا رجع في المقبرة بعد الدفن لا ينبشها؛ لأن النبش حرام، ولكن يسوي الأرض ويزرع، وهذا على غير رواية الحسن.والفتوى في ذلك كله على خلاف قول أبي حنيفة رضي الله عنه للتعامل المتوارث، هذا وتفارق المقبرة غيرها بأنه لو كان في المقبرة أشجار وقت الوقف كان للورثة أن يقطعوها؛ لأن موضعها لم يدخل في الوقف؛ لأنه مشغول بها، كما لو جعل داره مقبرة لا يدخل موضع البناء في الوقف، بخلاف غير المقبرة فإن الأشجار والبناء إذا كان في عقار وقفه دخلت في الوقف تبعا، ولو نبتت فيها بعد الوقف إن علم غارسها كانت للغارس، وإن لم يعلم فالرأي فيها للقاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها على عمارة المقبرة فله ذلك، وتكون في الحكم كأنها وقف.(6/ 239ط الحلبی)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1