السلام علیکم! مفتی صاحب،امید ہے آپ خیریت سے ہونگے،مجھے فتوی معلوم کرنا ہے کہ ماوا کھانا ،بیچنا جائز ہے؟اور کمائی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ ہمارے علاقے میں یہ وبا عام ہوچکی ہے۔
ماواکھانا، اور اس کی خرید و فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اگرچہ فی نفسہ مباح اور حلال ہے، مگر چونکہ اس پر قانوناً پابندی عائد کی گئی ہے، اس لئے اس کے خلاف کرنے کی وجہ سے قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہونے کے علاوہ یہ کاروبار کرنا اپنی عزت اور مال کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: أمر السلطان إنما ینفذ إذا وافق الشرع الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ أمر السلطان إنما ینفذ) أی یتبع ولا تجوز مخالفتہ عن الحموی أن صاحب البحر ذکر ناقلاً عن أئمتنا أن طاعۃ الإمام فی غیر معصیۃ واجبۃ فلو أمر بصوم وجب، وقدمنا أن السلطان لو حکم بین الخصمین ینفذ فی الأصح وبہ یفتی الخ(کتاب القضاء، مطلب طاعۃ الإمام واجبۃ، ج 5، ص 422، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وصح بیع غیر الخمر) مما مر، ومفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والأفیون الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ وصح بیع غیر الخمر) أی عندہ خلافا لھما فی البیع والضمان، لکن الفتوی علی قولہ فی البیع، وعلی قولھما فی الضمان إن قصد المتلف الحسبۃ وذلک یعرف بالقرائن، وإلا فعلی قولہ کما فی التاتر خانیۃ وغیرھما، ثم إن البیع وإن صح لکنہ یکرہ کما فی الغایۃ الخ(کتاب الأشربۃ، ج 6، ص 454، ط: سعید)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1