بسم الله الرحمن الرحیم!
جناب مفتی صاحب !دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی
مسئلہ : مرحومہ والدہ کے نام 133 مربع گز کا مکان جس کی مارکیٹ ویلیو ایک کروڑ سے سوا کروڑ تک اور سرکاری و ویلیو 70/60 لاکھ روپے ہے، والدہ کے ورثاء میں شوہر ، 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، جبکہ بہن نے اپنے حصے کے لئے عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے گھر میں رہائش پذیر بھائیوں کو بہن کا حصہ دینے یا مکان فروخت کر کے حصہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ بہنوں، بھائیوں اور شوہر کا اس مکان میں کیا شرعی حصہ بنتا ہے۔ والسلام!
(نوٹ): سائل کے والد مسمی اللہ وسایا " کو دارالافتاء میں بلایا گیا، انہوں نے آکر مکمل صور ت حال بیان کی کہ مکان دراصل انہوں نے خریدا اپنے آبائی علاقہ کا ایک مکان بیچ کر جو سرمایہ آیا وہ اور اپنے پاس جمع پونجی جتنی ہو سکی ملائی ، لیکن پھر بھی مکان کی قیمت پوری نہیں ہو رہی تھی، تو اہلیہ جو سلائی کا کام کرتی تھی ، اس سے جو آمدنی ان کے ہاتھ آئی تھی وہ آمدنی اور زیور تک مذکور مکان کی خریداری میں دیدی، لیکن انہوں نے کسی چیز کی تصریح نہیں کی کہ میں جو کچھ لگارہی ہوں، یا خرچ کر رہی ہوں وہ آپ کے ذمہ میں میرا قرض ہے، یا یہ کہ اس مکان میں میں بقدر سرمایہ شراکت دار ہونگی، واضح رہے کہ مذکور مکان خریداری کے وقت قابل رہائش نہیں تھا، اس کی تعمیر کے لئے میں نے کچھ قرض لیا، جس کی ادائیگی میں نے اپنی تنخواہ سے کی، اور کچھ میرے بیٹوں نے اپنی اپنی آمدنیوں سے تعمیرات میں رقم خرچ کی ، اسی طرح اہلیہ سے بھی جتنا ہو سکا اپنی طرف سے رقم دیتی رہی، میں خاندان کا سر براہ تھا اور میری سربراہی میں سب اکٹھے رہ رہے تھے ، البتہ کا غذات میں اپنی اہلیہ کا نام لکھوایا ، میں اب بھی اسی مکان میں رہائش پذیر ہوں ، بچے بھی ساتھ ہیں، اہلیہ بھی تاحیات میرے ساتھ رہی، میں نے دونوں بیٹیوں کو ان کا حق ادا کر دیا ہے، جبکہ کیس کرنے والی بیٹی کو ایک فلیٹ خرید کر دیا ہے ، اس کے بیٹے کو پڑھا کر اور پال کر ملازمت دلائی، اور جو فلیٹ ان کو دیا دہ 28 لاکھ کا ہے، یہ بھی واضح ہو کہ بیٹوں کی جانب سے بھی جو رقم مجھے گھر کی تعمیر یا قرضوں کی ادائیگی کے لئے دی گئی، اس میں ان کی طرف سے کوئی قرض یا واپسی کی تصریح نہیں کی گئی۔
سائل کے والد کے بیان کے مطابق مذکور مکان کے مالک سائل کے والد ہیں، کیونکہ مکان خریدتے وقت سائل کی والدہ مرحومہ اور دیگر بھائیوں نے جو رقم سائل کے والد کو دی تھی، اس وقت ان کی طرف سے مذکور مکان میں شراکت داری یا ملکیت کے متعلق کوئی بات طے نہیں ہوئی، بلکہ قرض یا واپسی کی بھی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، اس لئے سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں اور والدہ مرحومہ کی طرف سے دی ہوئی رقم سائل کے والد کے ساتھ ان کی طرف سے تبرّع اور احسان شمار ہو گا، مذکور مکان خریدنے کے بعد سائل کے والد نے اگر واقعۃً مذکور مکان اپنی اہلیہ کے فقط نام کیا تھا، انہیں با قاعدہ مالکانہ قبضہ و تصرف کا حق نہ دیا تھا، جیسا کہ سوال سے بھی واضح ہو رہا ہے ، تو ایسی صورت میں یہ ہبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً مذکور مکان ان کی اہلیہ کی ملک نہیں بنا، بلکہ وہ اب بھی بدستور سائل کے والد کی ملکیت ہے، اس لئے اولاد میں سے کسی کو ان کی زندگی میں مطالبہ کرنا کسی طرح درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
لہٰذا سائل کی بہن کا عدالت سےرجوع کرنا درست نہیں، البتہ سائل کے والد اگر اپنی مرضی وخوشی سے بلا کسی جبر واکراہ کے اپنی جائیداد کو اپنی اولاد کےدرمیان تقسیم کرتا ہے تو یہ بھی جائز اور درست ہےاور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں ،بلکہ یہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے، جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہے کہ سائل کے والد اپنی جائیداد میں سے اپنے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ جائیداد اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو ان کے حصہ پر باقاعدہ قبضہ بھی دیدے تا کہ ہبہ (گفٹ) شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور عطاء میں سب اولاد کو برابر یکساں رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں۔ البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت گزاری، محتاجی یا دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے، مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے، کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
وكما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإ ن شاغلا لا، (5/ 690)۔
و فيه ايضاً و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى اھ (5/ 696)۔
و فى الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)۔
وكما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإ ن شاغلا لا، (5/ 690)۔
و في خلاصة الفتاوى: رجل له ابن وبنت اراد ان يهب لهماشيئاً فالأفضل أن يجعل للذكر مثل حظ الانثيين عند محمد، وعند أبي يوسف بينهما سواء هو المختار لورود الآثار ، ولو و هب جميع ماله لابنه جاز فى القضاء وهوإثم نص عن محمد هكذا في العيون - اھ (۴/400)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1