آجکل نر جانور ، مثلا بیل، بھینسا وغیرہ کا نطفہ لیکر انجکشن کی شکل میں فروخت کیا جاتاہے اور ان انجکشنز کے ذریعے مادہ جانور مثلا گائے، بھینس وغیرہ کو حاملہ کیا جاتا ہے، کیا اس طریقہ سے جانوروں کے سیمنز(سپرمز) کی خریدوفروخت جائز ہے؟جبکہ آجکل یہ کاروبار عام ہوگیا ہے۔
واضح ہو کہ شرعاً کسی چیز کی خریدوفروخت کے درست ہونے کے لیے اس کا مالِ متقوم ہونا ضروری ہے اور چونکہ مادہ منویہ (نر جانور کا نطفہ) مال متقوم نہیں، بلکہ نجس ہے، لہذا جانوروں کے مادہ منویہ (سپرمز) کی خریدوفروخت شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ افزائش نسل کی خاطر نر جانوروں کا مادہ منویہ (سپرمز) لیکر انجکشن وغیرہ کے ذریعہ مادہ جانور کو حاملہ کرانے کی گنجائش ہے۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «(وأما) البيع الباطل فهو كل بيع فاته شرط من شرائط الانعقاد من الأهلية والمحلية وغيرهما، وقد ذكرنا جملة ذلك في صدر الكتاب ولا حكم لهذا البيع أصلا؛ لأن الحكم للموجود ولا وجود لهذا البيع إلا من حيث الصورة؛ لأن التصرف الشرعي لا وجود له بدون الأهلية والمحلية شرعا كما لا وجود للتصرف الحقيقي إلا من الأهل في المحل حقيقة، وذلك نحو بيع الميتة والدم والعذرة والبول وبيع الملاقيح والمضامين وكل ما ليس بمال، وكذا بيع صيد الحرم والإحرام؛ لأنه بمنزلة الميتة، وكذا بيع الحر؛ لأنه ليس بمال» (5/ 305)
وفيه أيضا: ولا ينعقد بيع الملاقيح، والمضامين الذي، ورد النهي عنه؛ لأن المضمون ما في صلب الذكر، والملقوح ما في رحم الأنثى، وذلك ليس بمال، وعلى هذا أيضا يخرج بيع عسب الفحل؛ لأن العسب هو الضراب، وأنه ليس بمال، وقد يخرج على هذا بيع الحمل أنه لا ينعقد؛ لأن الحمل ليس بمال. (5/ 145)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1