کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) کیا قسطوں پر چیزیں لینا یا بیچنا جائز ہے؟ بایں طورکہ ایک چیز نقد ایک ہزار پر خریدی یا بیچی جائے اور ادھار ۱۵۰۰ پر خریدی یا بیچی جائے؟
(۲) دوسرا سوال یہ کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ہم سے سرکار فنڈ کے نام سے جبراً ۳۵ روپے کاٹتی تھی اور پھر میں نے خود اپنے اختیار سے ۱۰۰ روپیہ کٹوانا شروع کر دیا جبکہ حکومت بعد میں مذکور رقم پر کچھ اضافہ کر کے واپس کر دیتی ہے، مذکورہ صورت میں بندہ تقریباً چار پانچ سال تک ۱۰۰ روپے کٹواتا رہا اور پھر کسی نے بتایا کہ یہ تو سود در سود ہے اور میری جمع شدہ رقم اصل مع منافع کے تقریباً ۱۸۰۰۰ ہزار روپے جمع ہے، کیا میں مذکور رقم نکلوا کر اپنے استعمال میں لا سکتا ہوں؟ جبکہ مجھے اس بات کا صحیح اندازہ نہیں کہ اصل رقم کتنی ہے اور سود کتنا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس تقریباً ۱۲ تولے سونا موجود ہے آیا کہ یہ سونا خالص سونا ہو تب زکوٰۃ دینی ہے یا بنا ہوا گہنا سات تولے ہو تو زکوۃ دینا ضروری ہے؟ اور اگر وہ سونا اپنی کسی بچی کے نام تھوڑا بہت کر دوں اور باقی سات تو لے سے کم رہ جائے تو کیا اس صورت میں مجھ پر زکوٰۃ ہے؟ جبکہ میری ملکیت میں نہ چاندی ہے اور نہ نقد روپیہ موجود ہے، نیز بعض اوقات ضرورت کے وقت خرچ کرنے کے لئے چار پانچ ہزار روپیہ احتیاط کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔
مذکور طریقے سے قسطوں پر کاروبار شرعاً بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے، بشرطیکہ مجلسِ عقد میں ہی ادھار کا معاملہ طے ہو جائے، اور بعد میں کسی قسط کے مؤخر ہونے کی وجہ سے جرمانہ کے طور پر کچھ مزید رقم بھی وصول نہ کی جائے نیز دیگر شرائطِ مفسدۂ عقد سے بھی خالی ہو۔
۲۔ سوال میں مذکور فنڈ سے اگر پراویڈیٹ فنڈ مراد ہے تو جاننا چاہئیے کہ اس فنڈ کے نام پر ملازم کی تنخواہ سے جتنی رقم جبراً یعنی ملازم کی اجازت و مرضی کے بغیر کاٹی جاتی ہے اور پھر اس کے برابر ادارہ اپنے پاس سے جمع کرتا ہے اور بعد میں ان پر جو رقم سود کے نام سے دی جاتی ہے ملازم کے لئے ان تمام رقوم کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔ جبکہ ملازم کے اختیار اور اجازت سے جو رقم کاٹی جائے تو اس پر نفع کا لینا جائز نہیں، اس کے وصول کرنے سے احتراز لازم ہے۔ لہٰذا سائل نے اپنے اختیار سے سو روپیہ یا کم و بیش جتنی رقم مذکور فنڈ میں جمع کروائی تھی فقط اتنی رقم کا واپس لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے اس پر ملنے والے نفع کو وصول کر کے بلانیت ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کر دیں۔
اگر زیورات بنے ہوئے ہوں تو ملاوٹ سمیت اس کا وزن معتبر ہوگا، اس کے بعد واضح ہو کہ اگر سائل کے پاس مذکور سونے کے علاوہ کچھ رقم بھی ہو جیسا کہ سوال میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے تو ایسی صورت میں اگر سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو تب بھی قیمت کے اعتبار سے اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچ جائے تو سال پورا ہونے پر اس کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰة مستحقین کو مالک بنا کر دینا واجب ہے اور اگر محض سونا ہی سونا ہو اور وہ بھی ساڑھے سات تولہ سے کم تو اس صورت میں زکوٰۃ بھی لازم نہیں۔
و فی الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ
و فی الشامیة : أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر و عن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (الیٰ قوله) ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة و هو ربا و إلا فلا بأس به في المنح ملخصا و تعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة و القضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح اھ (5/165)۔
وفی شرح المجلة : البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطه صحیح یلزم ان تکون المدة معلومة فی البیع بالتاجیل والتقسیط اھ (ص/50)۔
وفي معارف السنن: من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء (۱/ ۳۴)-
کمافی الھدایۃ: ليس فيما دون مائتي درهم صدقة " لقوله عليه الصلاة والسلام " ليس فيما دون خمس أواق صدقة " والأوقية أربعون درهما " فإذا كانت مائتين وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم (الیٰ قولہ)فصل في الذهب" ليس فيما دون عشرين مثقالا من الذهب صدقة فإذا كانت عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال (الیٰ قولہ) والمعتبر في الدراهم وزن سبعة وهو أن تكون العشرة منها وزن سبعة مثاقيل بذلك جرى التقدير في ديوان عمر رضي الله عنه واستقر الأمر عليه " وإذا كان الغالب على الورق الفضة فهو في حكم الفضة وإذا كان الغالب عليها الغش فهو في حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمته نصابا "(الیٰ قولہ)الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب "(الیٰ قولہ)يقومها بما هو أنفع للمساكين " احتياطا لحق الفقراء(الیٰ قولہ)قال: " وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة حتى يتم النصاب اھ(1/102)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1