کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ پاکستان کی پینٹ فیکٹریاں آج کل پینٹ کے ڈبوں میں ڈسکاؤنٹ کے کو پن ڈالتی ہیں، جن کو ہر رنگ کرنے والا ڈبے میں سے نکال کر کیش کروا لیتا ہے، جن کمپنیوں کے پینٹ کے ڈبے میں ٹوکن ہوتا ہے رنگ کرنے والے حضرات ان ہی کمپنیوں کا پینٹ خریدنے پر اصرار کرتے ہیں اور ساتھ ہی رنگ کرنے والے حضرات ان ٹوکن کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے رنگ کا ضیاع کرتے ہیں، تاکہ رنگ کروانے والے حضرات اور ڈبے منگوائیں، اور یہ بھی معلوم رہے کہ رنگ کروانے والوں کو ڈبے میں موجود کوپن کے بارے میں لاعلم رکھا جاتا ہے اور ان کوپن کے بارے میں زیادہ تر رنگ کرنے والے کو ہی معلومات ہوتی ہیں ۔
(۱) کیا یہ پیسے جو ان ٹوکن کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں یہ رنگ کرنے والوں کے لئے حلال ہیں یا پھر حرام؟
(۲) کیا یہ پیسے پینٹ فیکٹریوں کی طرف سے رشوت کی صورت تو نہیں ہے ؟تاکہ رنگ کرنے والے حضرات زیادہ سے زیادہ اسی کمپنی کے پینٹ کو مالکان کے گھر وغیرہ میں لگوانے پر اصرار کریں۔
سب سے پہلے تو یہ واضح ہو کہ کسی کمپنی کا اپنے سامان کی تشہیر یا زیادہ نکالنے کی خاطر اس قسم کی انعامی اسکیم جاری کرنا شرعاً ممنوع نہیں ،بلکہ جائز اور درست ہے اور اس صورت میں کوپن کے انعام کا حقدار شرعاً وہی شخص کہلائے گا جس نے رقم خرچ کر کے یہ مال حاصل کیا ہے، نہ کہ اس کا غیر ۔
البتہ اس صورت میں کاریگروں کا اپنے مؤکل یعنی رنگ کروانے والے احباب کو دھوکے میں رکھنا ، انعامی کوپن کو اپنا حق سمجھنا اور اس کی رقم مؤکل کو نہ دینا و غیره بلاشبہ نا جائز و حرام ہے، لہذا کا ریگروں پر لازم ہے کہ اپنے مذکور نا جائز طرزِ عمل سے احتراز کر کے جائز اور حلال طریقہ سے اپنی اجرت وغیرہ لینے کا اہتمام کریں ، اور کسی کے پاس اس طرح کی انعامی رقم وغیرہ موجود ہو تو اُسے رنگ کروانے والے کے حوالہ کر دے یا اسے بتا کر اور اس کی اجازت سے اپنے استعمال میں لائے تاکہ مؤاخذۂ اخروی سے بھی نجات ممکن ہو۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1