السلام علیکم مولانا صاحب!
ہم لوگ بلٹی کا کام کرتے ہیں، ڈرائیور حضرات لاہور ملتان یا پاکستان کے کسی بھی حصے سے مال لوڈ کر کے آتے ہیں، ان کے پاس جو مال کی بلٹی ہوتی ہے، وہ اڈے والے فوراً کرایہ ادا نہیں کرتے، وہ ان کو چار پانچ دن کا واؤچر بنا کر دیتے ہیں، ہم لوگ اس واؤچرکی رقم ۳۰۰ یا ۴۰۰ روپے کاٹ کر ادا کر دیتے ہیں، اور چار پانچ دن کے بعد اڈے سے وصول کر لیتے ہیں، جو رقم ہم لوگ بلٹی سے کاٹتے ہیں، اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور صورت جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے،البتہ اس معاملے کو درست اور جائز طریقے سے انجام دینے کیلئے یہ صورت اختیار کی جائے کہ بنیادی طور پر اس معاملہ میں الگ الگ دو عقد کر لیے جائیں، ایک یہ کہ ٹرک کا مالک یا گاڑی کا ڈرائیور اپنی رسید یا واؤچر کی رقم وصول کرنے کے لئے مذکور بروکر (سائل) کو اپنا وکیل بنائے ،اس طور پر کہ فلاں تاریخ ، فلاں دن ، فلاں شخص سے ہماری اتنی رقم مثلاً5000روپے وصول کر لیں، پھر جتنی رقم اس بل سے کاٹنی ہو وہ رقم بھی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ اجرت کے طور پر طے کرلیں کہ اتنی رقم مثلاً 500 روپے آپ کو اجرت دوں گا، اس کے بعد ڈرائیور یا گاڑی کا مالک مذکور بروکر سے کہے کہ آپ مجھے مثلاً 4500روپے قرض دے دیں اور مقررہ تاریخ پر جب آپ بل وصول کریں تو میں نے آپ سے ابھی جو قرضہ مثلاً 4,500 روپے لیا ہے یہ اسی بل یعنی 5000روپے سے وصول کر لینا اور باقی 500روپے آپ کے آنے جانے اور محنت وغیرہ کی طے شدہ مزدوری ہے، اس لئے وہ باقی 500 روپے میں آپ کو اجرتِ مقررہ میں چھوڑتا ہوں۔
كما في الدر المختار: [مطلب في بيع الجامكية] (قوله: وأفتى المصنف إلخ) تأييد لكلام النهر، وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية فيقول له رجل: بعتني جامكيتك التي قدرها كذا بكذا، أنقص من حقه في الجامكية فيقول له: بعتك فهل البيع المذكور صحيح أم لا لكونه بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح اھ (4/ 517)۔
وفي البحر الرائق: الأجير المشترك من يعمل لغير واحد كالخياط والصباغ (إلی قوله) قال رحمه الله ( ولا يستحق الأجرة حتى يعمل كالقصار والصباغ والخياط والنساج ) لأن الإجارة عقد معاوضة فيقتضي المساواة بينهما كما تقدم اھ(8/ 30)
وفى الهداية شرح البداية: يسلم المبيع ويقبض الثمن ويطالب بالثمن إذا اشترى اھ (3/ 138)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1