کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی اپنی گاڑی میں ملتان کا سامان لوڈنگ کرتا ہے، اور اس کا کرایہ 500 روپے مقرر ہوتا ہے، جس جگہ سامان اتارا جاتا ہے، تو وہاں مالکِ سامان 1000 روپے دے دیتا ہے، اور بقیہ کرایہ کا وہ رسید بنا دیتا ہے،اور کہتے ہیں کہ جس اڈے سے سامان لوڈنگ کیا تھا ،وہاں پر آپ کو مل جائے گا تو اڈے والے 5 یا 6 دن کے تاخیر کے بعد دے دیتے ہیں ،اس گاڑی والے کو پیسوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے ،اور وہاں پر بروکر ہوتے ہیں ،اگر کرایہ 5000 مقرر ہو تو وہ اس سے 500 کم کر کے 4500 دے دیتا ہے ،اور یہی بروکر 5دن کے بعد مالکِ سامان سے پورے پیسے لے لیتا ہے، تو اس کٹوتی کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں اسکی وضاحت فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور صورت شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے، اس معاملے کو درست اور جائز طریقے سے انجام دینے کے لئے یہ صورت اختیار کی جائے کہ بنیادی طور پر اس معاملہ میں الگ الگ دو عقد کر لیے جائیں، ایک یہ کہ ٹرک کا ڈرائیور یا گاڑی کا مالک اپنی رسید یا واوچرکی رقم وصول کرنے کے لئے مذکور بیوپاری کو اپنا وکیل بنائے اس طور پر کہ فلاں تاریخ ، فلاں دن اور فلاں شخص سے ہماری اتنی رقم مثلاً 1500 روپے وصول کر لیں، پھر جتنی رقم اس بل سے کاٹنی ہو وہ رقم بھی باہمی رضامندی سے باقاعدہ اُجرت کے طور پر طے کر لیں کہ اتنی رقم مثلاً 500 روپے آپ کو بطور اُجرت دوں گا۔ اس کے بعد ڈرائیور یا گاڑی کا مالک مذکور بیوپاری سے کہے کہ آپ مجھے مثلاً 14500روپے قرض دیدیں ،اور مقررہ تاریخ پر آپ جب یہ بل وصول کریں ،تو میں نے آپ سے ابھی جو قرض 14500 روپے لیے ہیں ،یہ اسی بل یعنی 15000 روپے سے وصول کر لینا اور باقی 500روپے آپ کے آنے جانے اور محنت وغیرہ کی طے شدہ مزدوری ہے، اس لئے وہ باقی 500 روپے میں آپ کو اجرتِ مقررہ میں چھوڑتا ہوں۔
ففي حاشية ابن عابدين: [مطلب في بيع الجامكية] (قوله: وأفتى المصنف إلخ) تأييد لكلام النهر، وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية اھ (4/ 517)۔
وفي البحر الرائق: الأجير المشترك من يعمل لغير واحد كالخياط والصباغ (إلی قوله) قال رحمه الله ( ولا يستحق الأجرة حتى يعمل كالقصار والصباغ والخياط والنساج ) لأن الإجارة عقد معاوضة فيقتضي المساواة بينهما كما تقدم اھ(8/ 30)۔
وفى الهداية شرح البداية: يسلم المبيع ويقبض الثمن ويطالب بالثمن إذا اشترى اھ (3/ 138)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1