کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ دین متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک صاحب نے اپنی دکان دوسرے آدمی کے ہاتھوں فروخت کی اور اس کی رقم وصول پانے کے بعد کا غذات خرید کننده کے حوالے کر دیے ،خرید کنندہ نے دکان کا قبضہ لینے کے بعد جب دکان کی پیمائش کی تو (32) بتیس اسکوائر فٹ جگہ کاغذات کے مطابق کم نکلی ،جبکہ کاغذات ، و دستاویزات کے مطابق جگہ / دکان 305 اسکوائر فٹ ہونی چاہیئے ،مذکورہ 32 اسکوائر فٹ جگہ دیوار کو پیلرز (ستون) کیا تو دیوار قائم کرنے سے مکمل ہو جاتی ہے ۔ جو کہ کاغذات فروختگی کے سائٹ پلان پر دکھائی گئی ہے ،جس کی کاپی حاضر خدمت ہے۔ لیکن جب خرید کننده نے پیمائش کے بعد دکان کا کام کرنا چاہا تو فروخت کنندہ نے منع کر دیا کہ آپ موجودہ صورت میں 305 اسکوائر فٹ جگہ کی بات نہ کریں بلکہ جو شکل دکان کی سابقہ ہے، اسی صورت میں اسکو قبول کریں ، جب دستاویزات سامنے پیش کی گئیں تو فروخت کنندہ نے شریعت کے مطابق مسئلے کا حل نکالنے پر زور دیا جس پر ایک معروف مفتی صاحب سے رابطہ کیا گیا اس پر مفتی صاحب کے کہنے پر دو عدد علمائے کرام کو جگہ دیکھ کر فیصلہ کرنے کا کہا گیا ,ان دو عدد علمائے کرام نے بھی دستاویزی ثبوت کیمطابق فیصلہ صادر فرمایا لیکن فروخت کنندہ اب اس بات پر مصر ہیں کہ کسی بڑے ادارے سے فتوی حاصل کیا جائے اور اس فتویٰ کی روشنی میں فریقین عمل کے پابند ہوں ، جناب کی خدمت میں درجِ ذیل چیزیں جواب طلب ہیں:
(1) :فریقین کے خرید و فروخت کا اعتبار دستاویزی ثبوت پر ہوگا یا نہیں؟ (۲): جتنی جگہ کا غذات کے مطابق بیچی گئی ہے ،اور رقم وصول کر لی گئی ہے اس جگہ کا پورا کرکے دینا فروخت کنندہ کے ذمے ہے کہ نہیں؟ (۳ ): جو شخص ناجائز طور پر کسی بھی آدمی کا کچھ حصہ غصب کرے اس کی شرعی سزا کیا ہے؟ (۴) ؛علماءِ کرام اور فتویٰ کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو از روئے شریعت اس کے لئے کیا حکم ہے؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیے۔
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ کی وضاحت سے متعلق "تاج منزل . واقع جو بلی سعید منزل کراچی" متعلقہ دوکان ، مارکیٹ اور درمیانی راستے کا معاینہ کیا گیا اور اختلافی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ پیمائش بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ دوکان کی پیمائش کاغذات میں لکھی مقدار سے کم ہے۔ اب اگر گلی میں قائم دوکان کے دونوں جانب کے ستون ’’پلروں‘‘ کے درمیان پوری جگہ پر دیوار کھڑی کر دی جائے ،تو مذکور پیمائش پوری ہو سکتی ہے، مگر اس سے یہ خرابی لازم آئےگی کہ گلی کے نقشہ میں تبدیلی لازم آنے کے ساتھ ساتھ گلی بھی تنگ ہو جائےگی، اس لئے اگر گلی میں سے صرف چھ (۶) انچ کی جگہ پر پتلی دیوار لگا دی جائے ،تو اس سے دوکان کے اندرون میں تقریباً سات سے آٹھ انچ جگہ کا اضافہ ہو سکتا ہے، اس طرح کرنے سے نہ تو گلی کے نقشے میں کوئی تبدیلی لازم آتی ہے ،نہ ہی خاطر خواہ تنگی ہو گی، اور صاحبِ دوکان کی دوکان بھی نقشہ کے قریب قریب ہو جائےگی۔ اس لئے فریقین کو چاہیئے کہ مارکیٹ کے دو معتمد احباب کی نگرانی میں دیوار کی تکمیل کرائیں تاکہ باہمی چپقلش، بحث ومباحثہ اور ماحول کی ناساز گاری کی نوبت نہ آئے، اور اگر فروخت کنندہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نگرانی میں گلی کی طرف چھ انچ تک پتلی دیوار لگوا دے تو اس کا یہ عمل کئی ایک فتنوں کے لئے سد باب ہو سکتا ہے۔
ففی شرح المجلة: إن الضرر إنما یزال إذا لم یتأت من ازالته ضرر مثله أو أشد وإلا فإذا دار الأمر بین ضررین فیتحمل لأخف الإزالة الأشد اھ (المادة ۲۷، ۱/ ۶۸)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1