گست 2023 میں میں نے 2 فلیٹس خریدے اور آدھی ادائیگی کی، باقی رقم فلیٹس کے مکمل ہونے پر دینی تھی۔ 16 ماہ کا وقت مقرر تھا، لیکن 18 ماہ گزرنے کے بعد بھی میرے فلیٹ کی تعمیر شروع نہیں ہوئی۔ میں نے معاہدہ منسوخ کر کے اپنی سرمایہ کاری منافع کے ساتھ واپس مانگی۔ کیا یہ منافع لینا جائز ہے؟ اگر نہیں، تو کوئی حل بتائیں جس سے مجھے منافع حاصل ہو سکے۔ اگر کچھ دباؤ ڈالنے پر وہ منافع دے دے، تو کیا یہ جائز ہوگا؟
صورت مسئولہ میں مذکور معاملہ کو فسخ کرنے کی شرعی حیثیت اقالہ کی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ خریدار نے جتنی رقم میں چیز خریدی ہو،چاہے وہ رقم نقد ہو یا ادھار اتنی ہی رقم لے کر فروخت کرنے والے کو فروخت شدہ چیز واپس کرے، واپسی کی صورت میں خریدار کا اصل رقم سے زائد رقم وصول کرنے کی شرط لگانا باطل ہے اور اگر خریدار اقالہ کرتے ہوئے اصل رقم سے زائد رقم وصول کرے گا تو وہ زائد رقم اس کے لئے حلال نہیں ہوگی، اس لئے مسئولہ صورت میں سائل کا معاملہ کو کینسل کرنے کی صورت میں ادا کی گئی رقم پر زائد منافع کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر:(و) الثاني (تصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه) ويرد مثل المشروط الخ
وفی الرد تحت(قوله: وتصح بمثل الثمن الأول) حتى لو كان الثمن عشرة دنانير، فدفع إليه دراهم ثم تقايلا وقد رخصت الدنانير رجع بالدنانير لا بما دفع، وكذا لو رد بعيب وكذا في الأجرة لو فسخت ولو عقد بدراهم فكسدت ثم تقايلا رد الكاسد كذا في الفتح نهر.(قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا، قال في الفتح: والأصل في لزوم الثمن، أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين، وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول، وثبوته برجوع عين الثمن إلى مالكه كأن لم يدخل في الوجود غيره وهذا يستلزم تعين الأول، ونفي غيره من الزيادة والنقص وخلاف الجنس اهـ(کتاب البیوع، باب الاقالۃ، ج5،ص125،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی البدائع: إذا تقايلا ولم يسميا الثمن الأول أو سميا زيادة على الثمن الأول أو أنقص من الثمن الأول أو سميا جنسا آخر سوى الجنس الأول قل أو كثر أو أجلا الثمن الأول فالإقالة على الثمن الأول في قول أبي حنيفة رحمه الله وتسمية الزيادة والنقصان والأجل والجنس الآخر باطلة سواء كانت الإقالة قبل القبض أو بعدها والمبيع منقول أو غير منقول لأنها فسخ في حق العاقدين والفسخ رفع العقد والعقد وقع بالثمن الأول فيكون فسخه بالثمن الأول ضرورة لأنه فسخ ذلك العقد وحكم الفسخ لا يختلف بين ما قبل القبض وبين ما بعده وبين المنقول وغير المنقول وتبطل تسمية الزيادة والنقصان والجنس الآخر والأجل وتبقى الإقالة صحيحة لأن إطلاق تسمية هذه الأشياء لا يؤثر في الإقالة لأن الإقالة لا تبطلها الشروط الفاسدة الخ( کتاب البیوع،فصل فی بیان ما یرفع حکم البیع،ج5،ص306،ط:ایچ ایم سعید)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1