ایک دفعہ حج پر جانا ہوا، دوکان سے کپڑا خریدا جو ’’دو سو ریال کا تھا‘‘ دوسری جگہ قیمت پوچھی، تو ایک سو ساٹھ ریال کا تھا، واپس اس دوکان پر آئے اور کہا کہ آپ نے کپڑا مہنگا دیا ہے، یا تو واپس کریں یا چالیس ریال واپس کریں، دوکاندار نہیں مانا، بہت منت سماجت کی لیکن نہیں مانا، آخرکار پولیس سے رابطہ کیا ،تو انہوں نے کہا کہ خود طے کر لو یا دوکاندار سے کہو کہ ہمارے ساتھ چلو ،دوکاندار نے مجھے آدھی رقم واپس دے دی، اور ناراض ہوا۔ میرا یہ معاملہ قرآن وحدیث کی روشنی میں درست تھا یا نہیں؟ کیا میں گناہ گار ہوا؟ اگر ہاں تو کیا کروں؟
قیمت عام بازار سے بہت زیادہ ہونے کی بناء پرسائل کو چیز واپس کر کے پوری قیمت لینے کا اختیار حاصل تھا، نہ کہ مذکور طریقہ سے آدھی قیمت پر رکھنے کا، تاہم دوکاندار نے جب مجبوراً آدھی قیمت واپس کی ہے، تو سائل کے لئے بازاری قیمت سے زائد کا لینا جائز نہیں، اُسے چاہیئے کہ عام بازاری قیمت سے جتنی زائد رقم دوکاندار سے وصول کی ہے،وہ خود یا کسی دوسرے کے ذریعہ اُسے واپس لوٹا دے ،اور آئندہ کے لئے کسی چیز کی خریداری سے قبل دو چار دوکانوں سے اُس چیز کی قیمت معلوم کرنے کے بعد خریداری کرے، تاکہ اس طرح کی ناچاقی کی صورت ہی پیدا نہ ہو۔
ففي الدر المختار: (و) اعلم أنه (لا رد بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين (في ظاهر الرواية) وبه أفتى بعضهم مطلقا كما في القنية ثم رقم وقال (ويفتى بالرد) رفقا بالناس وعليه أكثر روايات المضاربة وبه يفتى ثم رقم وقال (إن غره) أي غر المشتري البائع أو بالعكس أو غره الدلال فله الرد (وإلا لا) وبه أفتى صدر الإسلام وغيره اھ (5/ 143)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: وبه أفتى صدر الإسلام وغيره) وهو الصحيح اھ (5/ 143)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 165)۔
وفيھا أیضا: وعن أنس أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: أوصني . فقال: "خذ الأمر بالتدبير فإن رأيت في عاقبته خيرا فأمضه وإن خفت غيا فأمسك". رواه في "شرح السنة" اھ (3/ 96)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1