میں نے ایک گاڑی پسند کی ہے، جس کی قیمت مثلاً آٹھ لاکھ ہے،اور یہی گاڑی میرےلیے کوئی دوسرا شخص خریدے، اس کے بعد یہی گاڑی وہ شخص مجھے بارہ لاکھ یا اس سے زائد قیمت پر فروخت کردے، مثلاً دو لاکھ نقد ایڈوانس اور باقی رقم پندرہ ہزار روپے ماہانہ قسطوں کے حساب سے میرے پاس دو لاکھ دس ہزار سے زائد رقم نہیں؟
مذکورہ دوسرا شخص اگر اس گاڑی کو خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کرلے، اور اس کے بعد آپ پر ادھار میں قسطوں پر فروخت کر دے ،اور اسی مجلس میں ایڈوانس دی جانے والی رقم اور بقیہ تمام قسطیں اور ہر قسط کی رقم طے ہو، اور کسی قسط کے مؤخر ہونے پر کوئی جرمانہ بھی نہ لیا جائے، تو اس صورت میں کسی چیز کو نقد کے مقابلے میں ادھار پر مہنگا فروخت کرنا اور سائل کا اُسے لینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ولا ربح ما لم يضمن ولا بيع ما ليس عندك " . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي : هذا صحيح (2/ 146)۔
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة : أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12)۔
وفي الدر المختار: (قوله: فوق قيمته) أي شراء بثمن مؤجل فوق ما يباع بثمن حال لأن قيمة المؤجل فوق قيمة الحال اھ (4/ 440) ۔ والله أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1