مفتی صاحب! کیا ایک چیز کے بدلے دوسری چیز خریدی جا سکتی ہے؟ لیکن ان کے مقدار میں فرق ہو،مثال کے طور پر ایک بندہ کسی کو کہے کہ میرے دو کاریں لے لو، اور اپنی ایک کار (جو اچھی ہو) دیدو، اگر دونوں فریق اس پر راضی ہوں تو معاملہ ٹھیک ہے؟
سوال میں بطورِ مثال بیان کردہ صورت بلا شبہ جائز ہے ،البتہ ایک جنس و نوع کی دو چیزوں کو ایک دوسرے کے عوض بیچنے یا خریدنے کے حکم میں تھوڑی سی تفصیل ہے: وہ یہ کہ اگر دونوں طرف کی کی اشیاء اموال ربویہ (سونا، چاندی، گندم، جو، چھوارے ، نمک) یا ان کی مثل میں سے ہوں ،تو ان میں باہم دونوں عوضوں کا ایک جنس سے ہونے کی وجہ سے اس میں کمی بیشی اور ادھار کے ساتھ معاملہ کرنا ہر دو امور ناجائز و حرام ہیں، اور اگر دونوں عوض الگ جنس سے ہوں یا ایک طرف تو اموال ربویہ میں سے کوئی چیز ہو ،اور دوسری طرف غیر اموال ربویہ میں سے ہو تو ان میں کمی بیشی کے ساتھ معاملہ کرنا اگرچہ جائز ہے، مگر ادھار کے ساتھ معاملہ کرنا پھر بھی حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورة البقرة: ۲۷۸، ٢۷٩)
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء". رواه مسلم (2/ 134) -
وفي مشكاة المصابيح: عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد فمن زاد أو استزاد فقد أربى الآخذ والمعطي فيه سواء " . رواه مسلم (2/ 135)-
وفي الهداية شرح البداية: الربا محرم في كل مكيل أو موزون إذا بيع بجنسه متفاضلا فالعلة عندنا الكيل مع الجنس (إلی قوله( وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة والأصل فيه الإباحة وإذا وجدا حرم التفاضل والنساء لوجود العلة وإذا وجد أحدهما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النساء اھ (3/ 62)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1