کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی محمد حیات کپاس کا کاروبار کرتا ہوں ، میں نے مسمی نیاز اللہ سے پہلی مرتبہ کچھ مال خریدا، جس کی پیکنگ کے وقت میں خود موجود تھا، اور انہوں نے چیک کرا کر مال پیک کر کے بنڈل بنا دیئے۔ اور یہ مال میں نے آگے فروخت کیا ،اور خریدار نے کچھ مال چیک کر کے لے لیا ،اور اسے پسند آگیا ، اس اعتماد پر دوسری دفعہ بھی میں نے مذکور شخص مسمیٰ نیاز اللہ سے کچھ مال خریدا، انہوں نے خود ہی بنڈل بنا کر دئیے، میں نے چیک نہیں کیا اور نہ ہی میں پیکنگ کے وقت موجود تھا، اور اسی اعتماد پر اگلے خریدار نے بھی مال خریدا،اور یہ مال بھی بالکل ٹھیک تھا، لیکن تیسری دفعہ جب اس اعتماد پر میں نے چیک کیے بغیر مال لیا ،اور آگے فروخت کیا ،اور اس خریدار نے بھی خریدتے وقت بھی چیک نہیں کیا اور یہ مکمل ہوا، اور میرے اس خریدار مسمیٰ رمضان کے پاس ایک لاکھ پینسٹھ ہزار پانچ سو افغانی رقم رہ گئی۔ بعد میں جب میں نے رقم کی وصولی کیلئے فون کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے مال میں ہم نے دس بنڈل کھول دیئے، وہ سب خراب ہیں، اس لئے ہمیں یہ مال نہیں چاہیئے ۔ اس کے بعد جب میں وہاں گیا اور مال دیکھا ،تو وہ واقعی خراب تھا، اس پر میں نے مسمی نیاز اللہ کو فون کیا کہ مال خراب ہے، اگر آپ کسی کو فروخت کر سکتے ہیں تو بتا دو، تا کہ ہم وہاں پہنچا دیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، اور کہا تم جانو اور تمہارا مال،مجھے اس میں کوئی سروکار نہیں، اس لئے مجبوراً میں نے اس میں ایک لاکھ افغانی جو پاکستانی ایک لاکھ بیاسی ہزار بنتے ہیں، نقصان برداشت کیا اور مسمی رمضان کے پینسٹھ ہزار پانچ سو روپے وصول کیے ،اور ایک لا کھ افغانی رقم نقصان اٹھایا اور نیاز اللہ سے خریدنے کے بعد تقریباً 2 ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا کہ اس مال کی خرابی اور نقصان کا مسئلہ سامنے آیا ،اب میرے پاس مسمیٰ نیاز اللہ کے 2 لاکھ سینتالیس ہزار روپے باقی ہے ، اب جب اس نے اپنے رقم کا مطالبہ کیا تو میں نے پوری نوعیت سامنے رکھ دی کہ مجھے خود اس میں اتنا نقصان ہوا تو تجھے کس طرح پوری رقم دیدوں ۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ مال کی خرابی یہ تھی کہ جو مال میں نے خریدا تھا ،وہ فی کلو 100 روپے ہے ،اور اس نے جو میکس کر کے دیدیا تھا، اس کا عام ریٹ 70 روپے فی کلو ہے ۔
اب آپ حضرات شریعت کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ میں مسمیٰ نیاز اللہ سے مذکور رقم میں کچھ کٹوتی کر سکتا ہوں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مشتری ثانی کو چاہیئے کہ وہ اس عیب دار چیز کو بائع ثانی کے ،اور وہ بائع اول کے سپرد کرے، الا یہ کہ بائع اول نقصان برداشت کرلے ،تو پھر اُسے روکنے کی بھی اجازت ہے۔ تاہم صورتِ مسئولہ میں عیب سامنے آنے اور بائعِ اول کو مطلع کرنے پر اس کا مذکور رویہ قطعاً درست نہیں۔ ایسی صورت میں مشتری اول اس سے اپنا نقصان پورا کرنے کا مجاز ہے۔ تاہم اگر یہ فیصلہ کسی ثالث کی نگرانی میں بصورتِ صلح کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔
كما في الهداية شرح البداية: وفي بعض روايات البيوع إن كان فيما لا يحدث مثله يرجع بالنقصان للتيقن بقيام العيب عند البائع الأول اھ (3/ 39)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله رده على بائعه) معناه أن له أن يخاصم الأول ويفعل ما يجب أن يفعل عند قصد الرد ولا يكون الرد عليه ردا على بائعه اھ (5/ 26)۔
وفي الدر المختار: (باع ما اشتراه فرد) المشتري الثاني (عليه بعيب رده على بائعه لو رد عليه بقضاء) ؛ لأنه فسخ، ما لم يحدث به عيب آخر عنده فيرجع بالنقصان، وهذا (لو بعد قبضه) فله قبله رده مطلقا (إلى قوله) (ولو) رده (برضاه) بلا قضاء (لا) وإن لم يحدث مثله في الأصح؛ لأنه إقالة اھ (5/ 27) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1