زید نے بکر سے ایک مشین کچھ اس طرح خریدی کہ پہلے مشین کی قیمت طے کی، اور پھر ایک سال بعد ادائیگی کی مہلت طلب کی جس پر بکر تیار ہو گیا۔ زید ایک اور مشین خریدنا چاہتا ہے، اور ادائیگی کے لئے بکر سے ۲ سال کی مہلت طلب کرتا ہے۔ بکر یہ کہتا ہے کہ اگر دوسرے سال کی مہلت درکار ہے ،تو زید کو چھ فیصد اضافی رقم ادا کرنا ہوگی، کیونکہ بینک چھ فیصد سے کم پر قرض نہیں دیتا۔ ایک طویل بحث کے بعد زید بکر میں طے ہوتا ہے کہ چھ فیصد کے بجائے چار فیصد اضافی رقم پر ۲ سال کی مدت پر ادائیگی ہوگی۔
سوال: کیا اضافی مہلت پر اضافی رقم کی ادائیگی سود کے زمرے میں تو نہیں آئےگی؟ جبکہ بکر نے تو بینک سے ہی قرضہ لے کر اضافی مہلت لینا ہے اور بینک سود پر ہی قرض دیتا ہے۔
واضح ہو کہ نقد کے مقابلہ میں ادھار پر بیچنے کی صورت میں کچھ زائد رقم وصول کرنا جائز اور درست ہے، لہٰذا مذکور مشینوں کی خریداری میں اگر دیگر شرائط فاسدہ نہ ہوں تو مذکور معاملات بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ففی الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1