میرا ایک جنرل اسٹور ہے، میں "بازار ایپ" سے مال خریدتا ہوں۔ اس ایپ پر خریداری کے دو طریقے ہیں: اگر نقد ادائیگی کروں تو قیمت الگ ہوتی ہے، اور اگر 7 دن یا 14 دن کے ادھار پر خریدوں، تو وہ ایک مخصوص فیس چارج کرتے ہیں، مثلاً 15 ہزار روپے کے مال پر 14 دن کا کریڈٹ لوں ،تو تقریباً 250 روپے، اور 7 دن کا لوں، تو 110 یا 120 روپے فیس لی جاتی ہے۔ اگر رقم مقررہ وقت پر ادا نہ کی جائے، تو وہ کوئی اضافی چارج یا جرمانہ نہیں لیتے، بلکہ صرف کریڈٹ سہولت بند کردیتے ہیں، جب تک ادائیگی نہ ہو۔ کیا اس طرح کا لین دین ان سے شرعاً جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آئے گا؟
اگر بازار ایپ سے خریداری کے وقت یہ بات واضح طور پر طے ہوجائے کہ نقد خریدنے کی صورت میں قیمت الگ ہے اور سات ( 7) یا چودہ (14) دن کے ادھار پر خریدنے کی صورت میں قیمت میں مخصوص اضافہ (مثلاً 120 یا 250 روپے) ہوگا، اور خریدار عقد کے وقت ہی ادھار والا آپشن اختیار کرلے، تو یہ معاملہ بیعِ مؤجلہ (ادھار بیع) کے حکم میں آتا ہے اور شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ اضافہ سود نہیں، بلکہ مؤخر ادائیگی کی متعین قیمت ہے، البتہ قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں مالی جرمانہ لینا یا اضافی رقم لینا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1