السلام علیکم
مفتی صاحب ! کچھ دکاندار قصا ئی ہیں، وہ عید کے دنوں میں گاہک سے سالم پائےلے کر بدلے میں بنے ہوئے یا توڑے ہوئے پائے دیتے ہیں اور اپنی مزدوری ساتھ لیتے ہیں، بڑے جانور کے عوض بڑے کے پائے اوربکرے کےپائےکے عوض بکرے کے پائے، کیا یہ معاملہ درست ہے؟ اگرمزدوری میں سری پائے شامل نہیں کرتےتوپھرایساجائزہے؟لیکن سب کی رضامندی سے۔
واضح ہوکہ عرف میں چونکہ پایوں کا لین دین وزن کے حساب سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ عددیات کی قبیل سے ہیں، لہذا قدر کی علت مفقود ہونے کی وجہ سے اس میں کمی بیشی کی اجازت ہے، چنانچہ قصائی کے لئے ثابت اور سالم پائے لیکر اسکے بدلہ کٹے ہو ئے اور تیار پائے دینا اور اپنی محنت کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ معاملہ ہاتھ در ہاتھ ہو۔
کما فی الہندیۃ: وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس (الی قولہ) وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء وإن عدما حل الفضل والنساء كذا في الكافي (الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه، ج3، ص 117، ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وكذا إذا تبايعا فلسا بعينه بفلس بعينه فالفلسان لا يتعينان، وإن عينا إلا أن القبض في المجلس شرط حتى يبطل بترك التقابض في المجلس لكونه افتراقا عن دين بدين ولو قبض أحد البدلين في المجلس فافترقا قبل قبض الآخر ذكر الكرخي أنه لا يبطل العقد؛ لأن اشتراط القبض من الجانبين من خصائص الصرف، وهذا ليس بصرف فيكتفى فيه بالقبض من أحد الجانبين؛ لأن به يخرج عن كونه افتراقا عن دين بدين، وذكر في بعض شروح مختصر الطحاوي رحمه الله أنه يبطل لا لكونه صرفا بل لتمكن ربا النساء فيه لوجود أحد وصفي علة ربا الفضل وهو الجنس، وهو الصحيح (کتاب البیوع،فصل البیع، ج5،ص 237،ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1