گزارش یہ کہ میں اپنا گھر بنانا چاہتا ہو ں ،لیکن میں مالی طور پر مضبوط نہیں ہوں جس کی وجہ سے مجھے قر ض لینا پڑ رہا ہے تو اب مجھے یہ چیز معلوم کرنی تھی کہ ایک شخص مجھے سارا سامان خرید کر دے رہا ہے (بلا ک، سیمنٹ وغیرہ )جس کی ادائیگی وہ مجھ سے پندرہ ہزار ماہانہ طے کر رہا ہے ، لیکن وہی سامان اگر میں بازارسے کیش پر خریدوں تو وہ مجھے تین لاکھ روپے میں مل رہا ہے ، جبکہ وہ شخص چارلاکھ پچاس ہزار میں دے رہا ہے ، اور لیکن ادائیگی میں تین سال کا ٹائم دے رہا ہے ، تو لہذا اس میں ہماری رہنمائی فر ما ئیں کہیں یہ سود تو نہیں ہیں ؟
واضح ہو کہ کوئی چیز نقد کے مقابلہ میں ادھار زیادہ قیمت پر خریدنا شرعاً سود نہیں ، البتہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مجلس عقد میں ہی ادھار کا معاملہ طے کر لیا جائے اور اگر قسطوں میں قیمت دینی طے ہو تو کل اقساط اور ہر قسط کی مالیت بھی طے کر لی جا ئے اور کسی قسط کی تاخیر پر مالی جرمانہ بھی عائد نہ کیا جا ئے ،
چنانچہ مذکور بالا تفصیل کے مطابق سائل اگر بلاک اور سیمنٹ وغیرہ زیادہ قیمت پر خریدے تو شرعاً جائز ہے ، یہ معاملہ سود میں داخل نہیں ۔
کما فی درالمختار:(وصح بثمن حال )وھوالأصل (ومؤجل الی معلوم )لئلا یفضی الی النزاع الخ (کتاب البیوع ج 4 ص531 ط:سعید)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1