السلام علیکم سر! میرے پاس اپنا اناج پڑا ہوا ہے، یعنی کہ گندم کا 100من ،اس وقت گندم 1 من کی قیمت 3200 روپے ہے، اگر میں اس کو چھ مہینے کی میعاد میں 4 ہزار میں بیچوں، لینے والا بھی راضی ہو تو یہ جائز ہے یا ناجائز ہے ؟سر مہربانی رہنمائی فرمائیں، یعنی کہ پوری پیمنٹ چھ مہینے کے بعدکرے گا،اس وقت اس کے پاس پیسہ نہیں ہے۔
واضح ہوکہ نقد کے مقابلے میں ادھار بیچنے کی صورت میں زیادہ قیمت وصول کرنا شرعاً جائز ہے اور یہ سود کے زمرے میں بھی نہیں آتا، لہذا سائل کیلئے مذکور گندم چار ہزار(4000) فی من کے حساب سے چھ مہینے کے ادھار پر بیچنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ تاخیر کی صورت میں زائد رقم وصول نہ کی جائے،اور نہ ہی عقد میں اس طرح کی شرط لگائی جائے۔
کما فی رد المحتار:وصح بثمن حال ومؤجل إلى اجل معلوم(ج5، ص82، ط: سعید)۔
و فی المبسوط للسرخسی ’’وإذا عقد العقد علی أنه إلی أجل بکذا وبالنقد بکذا أو (قال:) إلی شهر بکذا وإلی شهرین بکذا فهو فاسد؛ لأنه لم یعامله علی ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ یوجب شرطین في بیع، وهذا هو تفسیر الشرطین في البیع، ومطلق النهي یوجب الفساد في العقد الشرعیة، وهذا إذا افترقا علی هذا ... فإن کان یتراضیان بینهما ولم یتفرقا حتی قاطعه علی ثمن معلوم وأتما العقدَ فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ‘‘ (:۸ / ۱۳)-
(ج 13، ص8)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1