السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مولانا صاحب !
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہمارا ٹریول ایجنسی کا کام ہے ، روزانہ ہماری مارکیٹ میں جو خرید و فروخت ہوتی ہے، اس کا حساب کتاب ریال کی صورت میں ہوتا ہے ، لیکن رقم کی ادائیگی پاکستانی روپوں میں ہوتی ہے، مثال کے طور پر کسی ایجنسی والے سے میں نے کوئی چیز خریدی اب وہ ہوٹل کی پیمنٹ ہے یا کسی اور چیز کی پیمنٹ ہے 500 ریال پیمنٹ ہے مثال کے طور پر اور روزانہ کا مارکیٹ کا ریٹ آف ایکسچینج ہوتا ہے جیسے آج کل 77 چل رہا ہے تو 500 ضرب 77 یہ ہو جائے گا 38500 ، اب بعض ایجنسی والوں سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو وہ 38500 کے حساب سے اس کو فکس کر دیتے ہیں بعد میں ریال کا ریٹ بڑھ جائے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ بھائی جس دن اب تم پیمنٹ کرو گے اس دن کے ریٹ آف ایکسچینج جو مارکیٹ کا ہوگا اس کے حساب سے ہم پیمنٹ لیں گے ، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بھائی پانچ دن بعد پیمنٹ کرو 10 دن بعد کرو ہم 38500 ہی لیں گے لیکن بعض ایجنسی والے ایسا کرتے ہیں کہ اس کو فوری پاکستانی روپوں کی شکل نہیں دیتے وہ اپنی اسٹیٹمنٹ میں 500 ریال ہی لکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ساتھ میں کہ جس دن تم پاکستانی روپوں میں پیسے دو ں گے اس دن مارکیٹ کا جو ریال کا ریٹ ہوگا اب وہ 75 ہو 77 ہو یا 65 ہو یہ تمہارا نصیب ہے ، وہ اس لئے ایسا کرتے ہیں تاکہ ان کو نقصان نہیں ہو زیادہ اور اس میں کبھی کبھار سامنے والے کو فائدہ بھی ہو جاتا ہے جو خریدار ہے تو اس طریقے کے معاملات کرنا یہ درست ہے؟
سائل اور ٹریول ایجنسی والوں کے درمیان ہوٹل کی پیمنٹ وغیرہ کے متعلق معاملہ اگر پاکستانی روپوں میں طے پا جائے تو ایسی صورت میں پاکستانی کرنسی میں ہی ادئیگی لازم ہوگی ، اور اگر معاملہ پاکستانی کرنسی کے بجائے " ریال " میں طے پائے تو ایسی صورت میں " ریال " میں ہی ادائیگی لازم ہوگی ، البتہ اگر رقم کی ادائیگی کے وقت فریقین " ریال " کے لین دین کے بجائے اس دن کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق پاکستانی کرنسی کا تبادلہ کریں تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
کما في رد المحتار: تحت ( قوله فلا عبرة لغلائه و رخصہ) فيه أن الكلام في الكساد، و هو ترك التعامل بالفلوس و نحوها( إلى قوله) و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس ، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه الا مثل عدد الذي أخذه الخ (فصل في القرض ، ج5 ص170 سعید)-
و في بدائع الصنائع : قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض (إلى قوله) أن رد المثل كان واجباً و الفائت بالكساد ليس الا وصف الثمنية و هذا وصف لا تعلق لجواز القرض به الخ ) (كتاب القرض ، ج ۷ ص ۳۹ سعید )-
وفي فقه البيوع لشيخ الإسلام : وقد تكون موافقة الإيجاب للقبول ضمناً، وهي كافية لانعقاد البيع، مثل: أن يقع الإيجاب من البائع بثمن، ويقع قبول المشتري بثمن أكثر منه ، فلو قال البائع : بعتك هذا الثوب بمأة، فقال المشتري: قبلته بمأة وعشرة ، انعقد البيع على المأة، لأن قبول المشتري بمئة وعشرة يتضمن قبوله بمأة، والقدر الذي زاده المشتري في القبول لا يلزمه دفعه، إلا إذا قبلها البائع في المجلس، فحينئذ يجب على المشتري دفعها. وكذلك إن أوجب المشتري بثمن، فقبل البائع بثمن أقل منه، انعقد البيع على القدر الأقلّ، لأنّ الموافقة قد حصلت ضمناً. ( الموافقة الضمنية للإيجاب، ج 1، ص 40، ط : مكتبة معارف القرأن)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1