السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!مفتی صاحب !ہمارا جوتوں کا کاروبار ہے ہم جن لوگوں سے جوتے خریدتے ہیں ہم ان کو فوری پیمنٹ نہیں کرتے بلکہ بعد میں کرتے ہیں اور ہم پیمنٹ کیے بغیر وہ جوتے آگے بیچنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی اس پر راضی ہوتے ہیں کہ آپ ہمیں پیمنٹ بعد میں کر دیں کیا شریعت میں یہ جائز ہے اور اگر جائز نہیں تو کیا اس کی کمائی حرام ہوگی؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی پارٹی سے ادھار کی بنیاد پر جوتے خرید کر اسے پیمنٹ کی ادائیگی سے قبل جوتے آگے فروخت کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا الآیۃ (آیتـ 275 سورۃ البقرۃ)
وفی تنویر الأبصار: ھو مبادلۃ شیء مرغوب فیہ بمثلہ علی وجہ مخصوص ویکون بقول أو فعل أما القول فالإیجاب والقبول فالإیجاب مایذکر أولا من کلام المتعاقدین الدال علی التراضی الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 507-500 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 531 ط: سعید)
وفی فتح القدیر: (قولہ ویجوز البیع حال ومؤجل) لإطلاق قولہ تعالی "وأحل اللہ البیع " (البقرۃ 275) وعنہ علیہ الصلاۃ والسلام "أنہ اشتری من یھدی طعاما إلی أجل معلوم ورھنہ درعہ" ولا بد أن یکون الأجل معلوما، لأن الجھالۃ فیہ مانعۃ من التسلیم الواجب بالعقد، فھذا یطالبہ بہ فی قریب المۃ، وھذا یسلمہ فی بعیدھا اھ (کتاب البیوع ج 6 صـ 261 ط: دار الفکر)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1