السلام علیکم !بعد سلام عرض یہ ہے کہ مجھے معلوم کرنا تھا کہ اگر میں موٹر سائیکل کیش میں نہیں لے سکتا ،تو اگر میں قسطوں میں لیتا ہوں، تو مجھے 30 ہزار مہنگا مل رہا ہے ، کیا یہ اضافی روپے سود میں آتے ہیں یا نہیں؟
نقد کے معاملے میں ادھار یا قسطوں پر خرید وفروخت کی صورت میں زیادہ قیمت مقرر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ، اور یہ سود کے زمرہ میں نہیں آتا، لہذا صورت مسئولہ میں چند شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے سائل کے لئے قسطوں پر زیادہ قیمت میں موٹر سائیکل خریدنا شرعاً درست ہے ،شرائط درج ذیل ہیں :1۔اول مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا 2۔ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے،3۔یہ بھی طے کرلیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی ، 4۔ کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ، نیز مذکور شرائط میں سے اگر کوئی ایک شرط بھی فوت ہو جائے تو سائل کے لئے مذکور معاملہ جائز نہیں ہوگا ۔
کما فی الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع الخ(ج 4 ص 531 ط: سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسی: واذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا(الی قولہ) فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز الخ(ج 13 ص 8 ط:دار المعرفۃ)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1